سبھی کے کام پر اس کی نظر ہے

Onkar Singh Vivek (b. 1965)

سبھی کے کام پر اس کی نظر ہے

مگر انسان پھر بھی بے خبر ہے

جدا پتے ہوئے جاتے ہیں سارے

یہ کیسا وقت آیا شاخ پر ہے

کھٹکتا ہے وہ کوٹھی کی نظر میں

بغل میں ایک جو چھپر کا گھر ہے

سر بازار ایماں بک رہے ہیں

یہی بس آج کی تازا خبر ہے

یقیں جلدی ہی کر لیتے ہو سب پر

کہیں دھوکا نہ کھاؤ اس کا ڈر ہے

کہاں آسانیاں ڈھونڈھو ہو اس میں

میاں یہ زندگانی کا سفر ہے

کہانی میں ہے جس نے جان ڈالی

وہی کردار بے حد مختصر ہے