Poetry
Poet
Meter
- خودکشی کے پل پرسمندر کی لہروں میں بہتیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- رات ہی رات میںراستے شہر سے جنگلوں کو مڑےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- رات ہے بردہ فروشاس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنےآشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جبFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئےاے مبارز طلب زندگیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- علی بابایہ عجلت ہمتوں کو پست کرتی ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- کہیں جب سرفروشی کیمحبت استقامت کیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- منڈیروں سے جب دھوپ اتریابھی رات جاگی نہیں تھیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- بارہ دری میں چاند سر شام ہو گیارہ داریوں کے پردے اڑاتی رہی ہواFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- عالم پناہخیر سے بے دار ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- کتنے منظر ٹوٹ کے گرتے رہتے ہیںان آنکھوں سےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گزرنا ہی اگر ٹھہراتو آہستہ سے گزروFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گماں کی بے رنگ ساعتوں میںنواح کرب و بلا سے دربار شام تک ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبویعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیاتمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- صاحب! یہ میرا نامۂ تقدیر دیکھیےاک شام ہجر اس میں کئی بار درج ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھرستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجودجیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- بکھرا ہے کئی بار سمیٹا ہے کئی باریہ دل ترے اطراف کو نکلا ہے کئی بارNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- تیری آنکھوں کے دو ستارے تھےجن پہ ہم دو جہان ہارے تھےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- جفائے عہد کا الزام الٹ بھی سکتا ہوںاسے یقین نہ تھا میں پلٹ بھی سکتا ہوںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- جو اس آنکھ سے نکلا ہوگاآنسو میرے جیسا ہوگاNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- چشم و دل صاحب گفتار ہوئے جاتے ہیںراستے عقل کو دشوار ہوئے جاتے ہیںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- سامنے اپنے تو بلا کے تو دیکھحوصلہ میرا آزما کے تو دیکھNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- شعور ذات کے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہوںمیں گرنے سے بہت پہلے سنبھلنا چاہتا ہوںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- غیر کے گھر سہی وہ آیا توغم ہی میرے لئے وہ لایا توNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- فیصلہ ہو گیا ہے رات گئےلوٹنے وہ گیا ہے رات گئےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- کسی محل میں نہ شاہوں کی آن بان میں ہےسکون جو کسی ڈھابے کے سائبان میں ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- گن رہے ہیں دل ناکام کے دنپھر وہی گردش ایام کے دنNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- گھڑی جیتا گھڑی مرتا رہا ہوںاسے جاتے ہوئے تکتا رہا ہوںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- لوگ لڑتے رہے نام آئے طلب گاروں میںہم کہ چپ چاپ کھڑے تھے ترے بیماروں میںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- مجھے رفعتوں کا خمار تھا سو نہیں رہاترے دوستوں میں شمار تھا سو نہیں رہاNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- منزل ہے تو اک رستۂ دشوار میں گم ہےرستہ ہے تو پیچ و خم دل دار میں گم ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- وقت پر عشق زلیخا کا اثر لگتا ہےآخر عمر بھی آغاز سفر لگتا ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- وقت کا سلسلہ نہیں رکتالاکھ روکو ذرا نہیں رکتاNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- وہ مرے دل میں یوں سما کے گئیلاکھ چاہا مگر نہ جا کے گئیNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- ہر سچ بات میں ہم دونوں ہیںالزامات میں ہم دونوں ہیںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- ہو گئے ہم شکار پھولوں کےہیں غضب اختیار پھولوں کےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- اپنی آنکھیں ذرا مجھے دینامیں دکھاؤں تری نظر سے تجھےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- ایک عجیب خواہش ہےاس زمیں کے کونے میںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- تیرے نوخیز آویزےیہ دل آویز آویزےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- جن بچوں کواپنا سارا جیون دے کرNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- حسن منظر میں کہاں ہےیہ ہمارے من کی آنکھوں میں کہیں ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- کسی کے فرض کرنے سےاگر فطرت بدل سکتیNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- یہ ہماری قسمت کےجتنے بھی ستارے ہیںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- اس کا چہرہاس کی آنکھیںNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- محبت زندگی ہےمحبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- اگر تم فرض کر لوتم میرے کار نشاط و وصل کا یکتا ذریعہ ہوNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- تمہیں ہے فخر کہ تم ہو مری شریک حیاتمجھے یہ دکھ ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- نہ جانے کیوںمجھے اکثر گمان ہوتا ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)