Poetry
Poet
Meter
- ہمارے شوق کی یہ انتہا تھیقدم رکھا کہ منزل راستا تھیJaved Akhtar (b. 1945)
- ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھےصرف دل کی گلی میں کھیلے تھےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسےان سرابوں پہ کوئی عمر گزارے کیسےJaved Akhtar (b. 1945)
- یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگاکل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگاJaved Akhtar (b. 1945)
- یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہاتو شکر کیجیے کہ اب کوئی گلا نہیں رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سبمیں اکیلا ہی نہیں برباد سبJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنانہ سر پتھر سے ٹکرائے تو کہناJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوںکہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوںJaved Akhtar (b. 1945)
- یہی حالات ابتدا سے رہےلوگ ہم سے خفا خفا سے رہےJaved Akhtar (b. 1945)
- آنکھ میں پرتو مہتاب سلامت رہ جائےکوئی صورت ہو کہ اک خواب سلامت رہ جائےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیںہم کہ رستہ ترا ہموار کئے جاتے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اپنے ہونے کی اہانت نہیں ہم کر سکتےسو تری یاد سے غفلت نہیں ہم کر سکتےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہےیہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اک آوارہ سا لمحہ کیا قفس میں آ گیا ہےلگا جیسے زمانہ دسترس میں آ گیا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اک ایسی ان کہی تحریر کرنے جا رہا ہوںہنر کو اور بھی گمبھیر کرنے جا رہا ہوںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اک ہمیں سلسلۂ شوق سنبھالے ہوئے ہیںوہ تو سب عہد وفا حشر پہ ٹالے ہوئے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ایک لمحہ کہ ملیں سارے زمانے جس میںایک نکتہ سبھی حکمت کے خزانے جس میںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھاتم نے سینے میں کوئی درد بسایا کب تھاJaleel 'Aali' (b. 1945)
- پھر ایک داغ چراغ سفر بناتے ہوئےنکل پڑے ہیں نئی رہگزر بناتے ہوئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہےہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- تھے نگاہوں میں جن راستوں کے شجر اور تھےدل مسافر کو در پیش تھے جو سفر اور تھےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤحصار ذات سے باہر نکل پاؤ تو آؤJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جب بھی بادل بارش لائے شوق جزیروں سےخوشہ خوشہ حرف کی بیلیں بھر گئیں ہیروں سےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جب بھی موسم ہنر حرف و بیاں لے جائےیوں لگے جسم سے جیسے کوئی جاں لے جائےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جدا جدا سب کے خواب تعبیر ایک جیسیہمیں ازل سے ملی ہے تقدیر ایک جیسیJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جسم کے خول سے نکلوں تو قضا کو دیکھوںبت کو رستے سے ہٹاؤں تو خدا کو دیکھوںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جواز کیا ہے کہ اس شہر کی تباہی نہ ہوجہاں کسی نے بھی رسم وفا نباہی نہ ہوJaleel 'Aali' (b. 1945)
- دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سےکمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- دل ہے کہ غم دل کا عزا دار نہیں ہےجاں ہے کہ سم زیست سے بیزار نہیں ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ذرا سی بات پر صید غبار یاس ہوناہمیں برباد کر دے گا بہت حساس ہوناJaleel 'Aali' (b. 1945)
- رات جو موج ہوا نے گل سے دل کی بات کہیاک اک برگ چمن نے کیسی کیسی بات کہیJaleel 'Aali' (b. 1945)
- راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہےسر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھورنہ یوں جیسے کبوتر کوئی شہباز کے ساتھJaleel 'Aali' (b. 1945)
- سبیل سجدۂ نا مختتم بناتے ہوئےخدا تک آئے ہیں کیا کیا صنم بناتے ہوئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میںبدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- شاخ بے نمو پر بھی عکس گل جواں رکھناآ گیا ہمیں عالی دل کو شادماں رکھناJaleel 'Aali' (b. 1945)
- عجب اسباب کرتا جا رہا ہوںلہو سیماب کرتا جا رہا ہوںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- غرور کوہ کے ہوتے نیاز کاہ رکھتے ہیںترے ہمراہ رہنے کو قدم کوتاہ رکھتے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہےیہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کچھ اور مرے درد کے شعلوں کو ہوا دوبے نور ہوئے داغ اندھیرا ہے ضیا دوJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کس دن برنگ زخم نیا گل کھلا نہیںکس شب بہ فیض اشک چراغاں ہوا نہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کسے خبر ابتدا کی انجام کون جانےگمان باطل خیال سب خام کون جانےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کیا ربط ایک درد سے بنتے چلے گئےجنگل میں جیسے راستے بنتے چلے گئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیںخود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کراتر گیا وہ مری روح میں خدا بن کرJaleel 'Aali' (b. 1945)
- لٹتے ہیں بہت سہل کہ دن ایسے کڑے ہیںگھر میں نہیں جیسے کہیں جنگل میں پڑے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- مجھے خوشی ہے مری اس سے رسم و راہ نہیںوہ شخص دل سے کسی کا بھی خیر خواہ نہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگےنکل گئے اپنی دھن میں اس کے نگر سے آگےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میںجانے کن خرابوں کے راستوں پہ نکلا میںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ہوا بھی زور پہ تھی تیز تھا بہاؤ بھیلڑی ہے خوب مگر کاغذی سی ناؤ بھیJaleel 'Aali' (b. 1945)