جواز کیا ہے کہ اس شہر کی تباہی نہ ہو
Jaleel 'Aali' (b. 1945)جواز کیا ہے کہ اس شہر کی تباہی نہ ہو
جہاں کسی نے بھی رسم وفا نباہی نہ ہو
وہ غم ملا ہے کہ دل سے دعا نکلتی ہے
یہ امتحاں کسی دشمن کا بھی الٰہی نہ ہو
زباں پہ حرف تمنا بھی رک نہیں سکتا
یہ خوف بھی ہے کہ برہم مزاج شاہی نہ ہو
چھٹی نہ تیرگیٔ دل تو فائدہ پیارے
ہزار چاہے قبا پر کہیں سیاہی نہ ہو
وہ گفتگو میں فرشتہ سہی مگر عالیؔ
جب اس کے پاس بھی کردار کی گواہی نہ ہو