Poetry
Poet
Meter
- مسام سنگ سے اس دم پسینے خوں کے چلتے ہیںکفن بردوش جب ہم کوئے قاتل میں نکلتے ہیںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہےمے خانہ بہت ساقی بہت جام بہت ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارےدکھائی دے ہے کہاں جتنا بال ہے پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیںہم محبت سے بھرا جام لئے پھرتے ہیںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- پھر رہے ہیں یہاں وہاں تنہاآج لگتا ہے یہ جہاں تنہاMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیںوقت کی گود میں کیا کیا نہ خزانے گم ہیںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاںتھکنے کے باوجود بھی چلتے رہے میاںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- نظر ہے پھر بھی نظاروں میں جی نہیں لگتااداس دل ہے بہاروں میں جی نہیں لگتاMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- جی میں آتا ہے ہم بھی اڑانیں بھریںآسانوں کی نیلی حدوں کو چھوئیںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- آج میں نے اپنا پھر سودا کیااور پھر میں دور سے دیکھا کیاJaved Akhtar (b. 1945)
- ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہےابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہےمگر یہ تو مری منزل نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کاJaved Akhtar (b. 1945)
- پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگینا آشنا ہر رہگزر نا مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر میں اور مری آوارگیJaved Akhtar (b. 1945)
- پیاس کی کیسے لائے تاب کوئینہیں دریا تو ہو سراب کوئیJaved Akhtar (b. 1945)
- جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھوکہاں پہ لائی ہے تم کو یہ زندگی دیکھوJaved Akhtar (b. 1945)
- جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتامجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتاJaved Akhtar (b. 1945)
- جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادوسنگ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہوJaved Akhtar (b. 1945)
- جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لولوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لوJaved Akhtar (b. 1945)
- خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہمپانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہمJaved Akhtar (b. 1945)
- درد اپناتا ہے پرائے کونکون سنتا ہے اور سنائے کونJaved Akhtar (b. 1945)
- درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرےہم بضد ہیں کہ میزباں ٹھہرےJaved Akhtar (b. 1945)
- درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیںہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیںJaved Akhtar (b. 1945)
- دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگجو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگJaved Akhtar (b. 1945)
- دل کا ہر درد کھو گیا جیسےمیں تو پتھر کا ہو گیا جیسےJaved Akhtar (b. 1945)
- دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھولپلکوں پہ کھلنے والے ہیں شاید لہو کے پھولJaved Akhtar (b. 1945)
- ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےبہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گےJaved Akhtar (b. 1945)
- ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہےبے گناہی ہے مری اور سزا اس کی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- سچ یہ ہے بیکار ہمیں غم ہوتا ہےجو چاہا تھا دنیا میں کم ہوتا ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاندآنکھوں کے صحرا میں ایک نمی کا چاندJaved Akhtar (b. 1945)
- شکر ہے خیریت سے ہوں صاحبآپ سے اور کیا کہوں صاحبJaved Akhtar (b. 1945)
- شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گےدل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گےJaved Akhtar (b. 1945)
- غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہےدنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہےکہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- کس لئے کیجے بزم آرائیپر سکوں ہو گئی ہے تنہائیJaved Akhtar (b. 1945)
- کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیےکیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیےJaved Akhtar (b. 1945)
- کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوںشعر کی میں تہذیب بنا ہوں یا اپنے حالات لکھوںJaved Akhtar (b. 1945)
- کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہاخلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میںJaved Akhtar (b. 1945)
- مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیںجب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیںJaved Akhtar (b. 1945)
- میرے دل میں اتر گیا سورجتیرگی میں نکھر گیا سورجJaved Akhtar (b. 1945)
- میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکاراوہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہاراJaved Akhtar (b. 1945)
- میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہےجس کا جواب چاہئے وہ کیا سوال ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیںترا تو کوئی خدا ہے مرا خدا بھی نہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہےبچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دےدوست جیسے ہو مجھ کو بہلا دےJaved Akhtar (b. 1945)
- وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہےزمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- وہ زمانہ گزر گیا کب کاتھا جو دیوانہ مر گیا کب کاJaved Akhtar (b. 1945)
- ہمارے دل میں اب تلخی نہیں ہےمگر وہ بات پہلے سی نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)