اک آوارہ سا لمحہ کیا قفس میں آ گیا ہے

Jaleel 'Aali' (b. 1945)

اک آوارہ سا لمحہ کیا قفس میں آ گیا ہے

لگا جیسے زمانہ دسترس میں آ گیا ہے

یہ کس کونپل کھلی ساعت صدا دی ہے کسی نے

رتوں کا رس ہر اک تار نفس میں آ گیا ہے

ہم اس کوچے سے نسبت کی خوشی کیسے سنبھالیں

ہمارا نام اس کے خار و خس میں آ گیا ہے

لہو میں لو کہاں موجود زندہ رابطے کی

نبھانے کو فقط بے روح رسمیں آ گیا ہے

انا کے فیصلے کیا مرضی پندار کیسی

مرا ہونا نہ ہونا اس کے بس میں آ گیا ہے

اتر آئے ان آنکھوں میں کچھ ایسے عکس عالیؔ

کہ دل پھر سے گرفت پیش و پس میں آ گیا ہے