تھے نگاہوں میں جن راستوں کے شجر اور تھے
Jaleel 'Aali' (b. 1945)تھے نگاہوں میں جن راستوں کے شجر اور تھے
دل مسافر کو در پیش تھے جو سفر اور تھے
بس رہا تھا مری سوچ کے آسمانوں پہ جو
اور ہی شہر تھا اس کے سب بام و در اور تھے
وہ جو چہروں پہ لکھا ہوا خوف تھا اور تھا
وہ جو سپنوں کے اندر پنپتے تھے ڈر اور تھے
سب جبینیں وہاں تھیں زمیں بوسیوں میں مگن
کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے جو سر اور تھے
شوق طغیانیوں میں بھی سنبھالے رہیں دھڑکنیں
ڈوب کر جن میں ابھرا نہ دل وہ بھنور اور تھے
ان زمانوں بھی اپنے قلم کی زباں تھی یہی
لفظ جب شہر تحریر میں معتبر اور تھے