Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنازندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھناBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  2. کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہےپریشانی کی رت جاتی نہیں ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  3. مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہےمیں وہ زندہ ہوں میری تحریر رہنے کے لیے ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  4. مشقت کا خزانہ مانگتا ہےمری محنت زمانہ مانگتا ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  5. آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیںجذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  6. اپنا تو خیر ذکر کیا کوئی نہیں نگاہ میںعمر تمام ہو گئی چھوٹے سے اک گناہ میںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  7. دنیا سجی ہوئی ہے جو بازار کی طرحمیں بھی چلوں گا آج خریدار کی طرحKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  8. ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  9. سایۂ بے اماں سے کیا حاصلزندگی اس جہاں سے کیا حاصلKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  10. سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھامگر جو سینے پہ یادوں کا سخت پتھر تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  11. کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  12. کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھاخیال و خواب کا وہ آخری سنبھالا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  13. کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعدجسم پھیکا پڑ گیا رنگ قبا ہونے کے بعدKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  14. وقت خود سر ہے سدا اپنی ہی من مانی کرےبہتا دریا آگ کر دے آگ کو پانی کرےKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  15. یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  16. بتا یہ کون سی منزل ہے اے عمر رواں مجھ کونظر آتا نہیں خود کا بھی اب سایہ جہاں مجھ کوDawood Khan Raaz (b. 1934)
  17. پہنا بھی کچھ زمانے نے ایسا لباس ہےماحول پہ زمانے کے غیرت اداس ہےDawood Khan Raaz (b. 1934)
  18. یہ زندگی کی ہار سے پہلے گزر گئیاک داستاں بہار سے پہلے گزر گئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
  19. یہ کالی گھٹا اٹھ کے مے خانوں کے سر آئیگردش یہ زمانے کی پیمانوں کے سر آئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
  20. چبھے جب دل میں خار عشق پھر کمتر نکلتے ہیںنکلتے ہیں اگر تو جان ہی لے کر نکلتے ہیںAafaq Banarasi new (b. 1934)
  21. دکھا کر مجھ کو چشم مست مستانہ بنا ڈالاپلا کر آج ساقی تو نے دیوانہ بنا ڈالاAafaq Banarasi new (b. 1934)
  22. دئے اس نے اوروں کو ساغر پہ ساغرچبھوئے مرے دل میں نشتر پہ نشترAafaq Banarasi new (b. 1934)
  23. جاہ و حشمت نہیں جلال نہیںپھر بھی چھیڑے کوئی مجال نہیںJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
  24. گریباں کو رفو کرنے لگے ہیںنوازش خوب رو کرنے لگے ہیںJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
  25. ممکن ہے کہاں برسوں تلک شاد رہیں ہمدنیا تو چاہتی ہے کہ برباد رہیں ہمJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
  26. ہلکی ہلکی بوندیں برسیں پنچھی کریں کلولاس رت میں ہیں امرت سے بھی میٹھے پی کے بولChaman Lal Chaman (1934–2019)
  27. ہم سے یوں بے رخی سے ملتے ہیںجس طرح ہر کسی سے ملتے ہیںChaman Lal Chaman (1934–2019)
  28. تشنہ لبی رہین مے تلخ ہے تو کیاشیرینیٔ حیات کی لذت کہاں سے لائیںTabish Hamdoon Usmani (1934–1992)
  29. یخ بستہ ہو چکی ہیں امیدوں کی بستیاںان میں ترے بدن کی حرارت کہاں سے لائیںTabish Hamdoon Usmani (1934–1992)
  30. ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہےدیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  31. اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  32. ایک مٹھی ایک صحرا بھیج دےکوئی آندھی میرا حصہ بھیج دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  33. بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  34. بلندی سے اتارے جا چکے ہیںزمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  35. بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نےہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  36. پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہوخود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہوZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  37. پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگاسب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  38. تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میںمرے ہونے نہ ہونے کے سبھی آثار گم اس میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  39. تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  40. جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھیتو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  41. جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھےگئے وہ لوگ جو کار زمانہ کرنے والے تھےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  42. جو اپنی ہے وہ خاک دل نشیں ہی کام آئے گیگروگے آسماں سے جب زمیں ہی کام آئے گیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  43. چہرہ لالہ رنگ ہوا ہے موسم رنج و ملال کے بعدہم نے جینے کا گر جانا زہر کے استعمال کے بعدZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  44. دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  45. دھوپ ہے کیا اور سایا کیا ہے اب معلوم ہوایہ سب کھیل تماشا کیا ہے اب معلوم ہواZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  46. دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  47. روشنی پرچھائیں پیکر آخریدیکھ لوں جی بھر کے منظر آخریZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  48. رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھاتری تلاش میں اے یار یہ تو ہونا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  49. زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  50. سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریںاک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریںZafar Gorakhpuri (1935–2017)