Poetry
Poet
Meter
- کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنازندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھناBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہےپریشانی کی رت جاتی نہیں ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- مرے ہر لفظ کی توقیر رہنے کے لیے ہےمیں وہ زندہ ہوں میری تحریر رہنے کے لیے ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- مشقت کا خزانہ مانگتا ہےمری محنت زمانہ مانگتا ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیںجذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- اپنا تو خیر ذکر کیا کوئی نہیں نگاہ میںعمر تمام ہو گئی چھوٹے سے اک گناہ میںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- دنیا سجی ہوئی ہے جو بازار کی طرحمیں بھی چلوں گا آج خریدار کی طرحKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- سایۂ بے اماں سے کیا حاصلزندگی اس جہاں سے کیا حاصلKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھامگر جو سینے پہ یادوں کا سخت پتھر تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھاخیال و خواب کا وہ آخری سنبھالا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعدجسم پھیکا پڑ گیا رنگ قبا ہونے کے بعدKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- وقت خود سر ہے سدا اپنی ہی من مانی کرےبہتا دریا آگ کر دے آگ کو پانی کرےKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- بتا یہ کون سی منزل ہے اے عمر رواں مجھ کونظر آتا نہیں خود کا بھی اب سایہ جہاں مجھ کوDawood Khan Raaz (b. 1934)
- پہنا بھی کچھ زمانے نے ایسا لباس ہےماحول پہ زمانے کے غیرت اداس ہےDawood Khan Raaz (b. 1934)
- یہ زندگی کی ہار سے پہلے گزر گئیاک داستاں بہار سے پہلے گزر گئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
- یہ کالی گھٹا اٹھ کے مے خانوں کے سر آئیگردش یہ زمانے کی پیمانوں کے سر آئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
- چبھے جب دل میں خار عشق پھر کمتر نکلتے ہیںنکلتے ہیں اگر تو جان ہی لے کر نکلتے ہیںAafaq Banarasi new (b. 1934)
- دکھا کر مجھ کو چشم مست مستانہ بنا ڈالاپلا کر آج ساقی تو نے دیوانہ بنا ڈالاAafaq Banarasi new (b. 1934)
- دئے اس نے اوروں کو ساغر پہ ساغرچبھوئے مرے دل میں نشتر پہ نشترAafaq Banarasi new (b. 1934)
- جاہ و حشمت نہیں جلال نہیںپھر بھی چھیڑے کوئی مجال نہیںJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
- گریباں کو رفو کرنے لگے ہیںنوازش خوب رو کرنے لگے ہیںJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
- ممکن ہے کہاں برسوں تلک شاد رہیں ہمدنیا تو چاہتی ہے کہ برباد رہیں ہمJahangeer Khan Jauhar (1934–2014)
- ہلکی ہلکی بوندیں برسیں پنچھی کریں کلولاس رت میں ہیں امرت سے بھی میٹھے پی کے بولChaman Lal Chaman (1934–2019)
- ہم سے یوں بے رخی سے ملتے ہیںجس طرح ہر کسی سے ملتے ہیںChaman Lal Chaman (1934–2019)
- تشنہ لبی رہین مے تلخ ہے تو کیاشیرینیٔ حیات کی لذت کہاں سے لائیںTabish Hamdoon Usmani (1934–1992)
- یخ بستہ ہو چکی ہیں امیدوں کی بستیاںان میں ترے بدن کی حرارت کہاں سے لائیںTabish Hamdoon Usmani (1934–1992)
- ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہےدیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- ایک مٹھی ایک صحرا بھیج دےکوئی آندھی میرا حصہ بھیج دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بلندی سے اتارے جا چکے ہیںزمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نےہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہوخود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہوZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگاسب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میںمرے ہونے نہ ہونے کے سبھی آثار گم اس میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھیتو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھےگئے وہ لوگ جو کار زمانہ کرنے والے تھےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- جو اپنی ہے وہ خاک دل نشیں ہی کام آئے گیگروگے آسماں سے جب زمیں ہی کام آئے گیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- چہرہ لالہ رنگ ہوا ہے موسم رنج و ملال کے بعدہم نے جینے کا گر جانا زہر کے استعمال کے بعدZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- دھوپ ہے کیا اور سایا کیا ہے اب معلوم ہوایہ سب کھیل تماشا کیا ہے اب معلوم ہواZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- روشنی پرچھائیں پیکر آخریدیکھ لوں جی بھر کے منظر آخریZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھاتری تلاش میں اے یار یہ تو ہونا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریںاک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریںZafar Gorakhpuri (1935–2017)