دئے اس نے اوروں کو ساغر پہ ساغر

Aafaq Banarasi new (b. 1934)

دئے اس نے اوروں کو ساغر پہ ساغر

چبھوئے مرے دل میں نشتر پہ نشتر

مریض محبت کی ہے اب یہ حالت

کہ آتے ہیں ہر وقت چکر پہ چکر

مری سخت جانی غضب رنگ لائی

ہوئے کند قاتل کے خنجر پہ خنجر

کرم ہے یہ ساقی کی دریا دلی کا

ملے مجھ کو بھر بھر کے ساغر پہ ساغر

چڑھاتے ہیں تیوری دکھاتے ہیں آنکھیں

چبھوتے ہیں دل میں وہ نشتر پہ نشتر

تری جستجو میں مہ و مہر دونوں

لگاتے ہیں دن رات چکر پہ چکر

مقابل ہوا ان کی چتون سے جب دل

پڑے تیر پر تیر خنجر پہ خنجر

نگاہوں نے دل میں چبھوئی ہیں چھریاں

اداؤں نے مارے ہیں خنجر پہ خنجر

نہ سرکا سر اس در سے آفاقؔ ہرگز

لگا کر اسے لاکھ ٹھوکر پہ ٹھوکر