کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھا
Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)کسی کو پیکر مہتاب میں جو ڈھالا تھا
خیال و خواب کا وہ آخری سنبھالا تھا
ہر ایک شخص پہ پرچھائیں کا خیال ہوا
تری گلی میں عجب طرح کا اجالا تھا
نہ جانے کس لئے ظلمت نے اس پہ یورش کی
وہ آفتاب کہ جو خود ہی ڈھلنے والا تھا
اسی خطا پہ ہر اک خار نے قدم چومے
وہ ایک کانٹا ہی کیوں پاؤں سے نکالا تھا
کوئی بتاؤ کہ سورج کو یہ جھجھک کیوں ہے
ابھی کرن نے تو کہرے سے سر نکالا تھا
بلا سبب مجھے یادوں نے سنگسار کیا
سراب زیست سے میں کب نکلنے والا تھا
کبھی تو ہم نے بھی خوابوں کے بت تراشے تھے
ہمارے دل میں بھی الفت کا اک شوالہ تھا