Poetry
Poet
Meter
- طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گاکہ ایک آنسو بھی کوئی باہر نہیں ملے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نےکچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیںدشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- مرا قلم مرے جذبات مانگنے والےمجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیےبن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھانہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہےبچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- اب تو علم کی پروازیںاور ہی قصے کہتی ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- مرے عزیز وطن کے عزیز فرزندومرے وطن کی نئی صبح کے نقیب ہو تمZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- تنہائی کو گھر سے رخصت کر تو دوسوچو کس کے گھر جائے گی تنہائیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- خط لکھ کے کبھی اور کبھی خط کو جلا کرتنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- ذہنوں کی کہیں جنگ کہیں ذات کا ٹکراؤان سب کا سبب ایک مفادات کا ٹکراؤZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- شجر کے قتل میں اس کا بھی ہاتھ ہے شایدبتا رہا ہے یہ باد صبا کا چپ رہناZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کومیں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کرZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- اجاڑ سڑکوں کی دونوں جانبگھنے درختوں کے لمبے سائے تلےEjaz Farooqi (b. 1935)
- میرا جسمیہ نیلا گہرا پھیلتا پانیEjaz Farooqi (b. 1935)
- نظر نظر کا فریب ہر سواٹھے تو صحرا پہ پھیل جائےEjaz Farooqi (b. 1935)
- یادیں ناگنڈس جائیںEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ آگ پانی ہوا یہ مٹیانہیں سے میرا خمیر اٹھاEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ کائنات ایک آئنہ ہےیہ صاف پانی کی جھیلEjaz Farooqi (b. 1935)
- پانی پانیہر سو پانیEjaz Farooqi (b. 1935)
- لفظ تقدیر مریحسن بھی لفظ میں ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہی ایک لمحہ ہےجب میرے پاؤں زمیں پر ہیںEjaz Farooqi (b. 1935)
- اپنے دل کی قوس قزح کےٹکڑے ٹکڑے کر کے میں نےEjaz Farooqi (b. 1935)
- تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہےتیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوںEjaz Farooqi (b. 1935)
- تو نے میرے دکھ کی خاطرکتنے رنج سہےEjaz Farooqi (b. 1935)
- تو ہے اک تانبے کا تھالجو سورج کی گرمی میں سارا سال تپےEjaz Farooqi (b. 1935)
- تیری تربتتیری آوازوں کا گنبدEjaz Farooqi (b. 1935)
- سحر کے وقتکنواری زمین شبنم میں نہا کے لیٹی ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
- صبح کا ہنستا ستارہ تنہاکون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
- عصائے موسیٰاندھیری راتوں کی ایک تجسیم منجمدEjaz Farooqi (b. 1935)
- کرن کو تم کس طرح اندھیروں کی چادروں میں لپیٹ دو گےکرن تو پھوٹے گیEjaz Farooqi (b. 1935)
- کل جو قبرستان سے لوٹاتو تنہائی کا اک بوجھ اٹھا کر لایاEjaz Farooqi (b. 1935)
- کیوں مرے خواب کو دھندلاتے ہوخوابEjaz Farooqi (b. 1935)
- موسم سرما کی ٹھٹھراتی ہوئی شام حزیںچوٹیوں پر برف کی اک لاشEjaz Farooqi (b. 1935)
- وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہکوہ ملاEjaz Farooqi (b. 1935)
- وہ ایک آنسو گراوہ دل کے اتھاہ ساگر میں اک صدف کا بھی منہ کھلاEjaz Farooqi (b. 1935)
- وہ ایک پتھروہ سخت کالا سیاہ پتھرEjaz Farooqi (b. 1935)
- وہ ایک پل تھامرے اور اجداد کے زمانوں کا نقطۂ اتصالEjaz Farooqi (b. 1935)
- وہ پیڑ اب کٹ گیا ہےجس کے تلے جوانی کے گرم لمحوں کو ٹھنڈے سائے ملےEjaz Farooqi (b. 1935)
- وہ تیرگی بھی عجیب تھیچاندنی کی ٹھنڈی گداز چادر سے سارا جنگل لپٹ رہا تھاEjaz Farooqi (b. 1935)
- ہوا کے یہ نقشنیلے ساگر کی اٹھتی موجیںEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ آبا کی اقدار کا اک مرقعجسے وقت کی ایک یلغار پیہم مٹاتی رہیEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ چٹئیل سرزمیںتم کو ملیEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ سمندرموج در موج سلاسلEjaz Farooqi (b. 1935)
- یہ ننھی سی گڑیاجسے دو برس ہو گئے ہیںEjaz Farooqi (b. 1935)
- اک پرانی شراب جیسا عشقمجھ سے خانہ خراب جیسا عشقJagdish Prakash (b. 1935)
- بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہےاور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہےJagdish Prakash (b. 1935)
- بصارت کھو گئی ہے روشنی میںمزہ آنے لگا ہے تیرگی میںJagdish Prakash (b. 1935)
- ترا خیال مجھے اس طرح پکارتا ہےکہ مندروں میں کوئی آرتی اتارتا ہےJagdish Prakash (b. 1935)