Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گاکہ ایک آنسو بھی کوئی باہر نہیں ملے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  2. عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نےکچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  3. کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیںدشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  4. مرا قلم مرے جذبات مانگنے والےمجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  5. میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیےبن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  6. نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھانہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  7. یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہےبچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  8. اب تو علم کی پروازیںاور ہی قصے کہتی ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  9. مرے عزیز وطن کے عزیز فرزندومرے وطن کی نئی صبح کے نقیب ہو تمZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  10. تنہائی کو گھر سے رخصت کر تو دوسوچو کس کے گھر جائے گی تنہائیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  11. خط لکھ کے کبھی اور کبھی خط کو جلا کرتنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  12. ذہنوں کی کہیں جنگ کہیں ذات کا ٹکراؤان سب کا سبب ایک مفادات کا ٹکراؤZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  13. شجر کے قتل میں اس کا بھی ہاتھ ہے شایدبتا رہا ہے یہ باد صبا کا چپ رہناZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  14. کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کومیں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کرZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  15. اجاڑ سڑکوں کی دونوں جانبگھنے درختوں کے لمبے سائے تلےEjaz Farooqi (b. 1935)
  16. میرا جسمیہ نیلا گہرا پھیلتا پانیEjaz Farooqi (b. 1935)
  17. نظر نظر کا فریب ہر سواٹھے تو صحرا پہ پھیل جائےEjaz Farooqi (b. 1935)
  18. یادیں ناگنڈس جائیںEjaz Farooqi (b. 1935)
  19. یہ آگ پانی ہوا یہ مٹیانہیں سے میرا خمیر اٹھاEjaz Farooqi (b. 1935)
  20. یہ کائنات ایک آئنہ ہےیہ صاف پانی کی جھیلEjaz Farooqi (b. 1935)
  21. پانی پانیہر سو پانیEjaz Farooqi (b. 1935)
  22. لفظ تقدیر مریحسن بھی لفظ میں ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
  23. یہی ایک لمحہ ہےجب میرے پاؤں زمیں پر ہیںEjaz Farooqi (b. 1935)
  24. اپنے دل کی قوس قزح کےٹکڑے ٹکڑے کر کے میں نےEjaz Farooqi (b. 1935)
  25. تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہےتیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوںEjaz Farooqi (b. 1935)
  26. تو نے میرے دکھ کی خاطرکتنے رنج سہےEjaz Farooqi (b. 1935)
  27. تو ہے اک تانبے کا تھالجو سورج کی گرمی میں سارا سال تپےEjaz Farooqi (b. 1935)
  28. تیری تربتتیری آوازوں کا گنبدEjaz Farooqi (b. 1935)
  29. سحر کے وقتکنواری زمین شبنم میں نہا کے لیٹی ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
  30. صبح کا ہنستا ستارہ تنہاکون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہےEjaz Farooqi (b. 1935)
  31. عصائے موسیٰاندھیری راتوں کی ایک تجسیم منجمدEjaz Farooqi (b. 1935)
  32. کرن کو تم کس طرح اندھیروں کی چادروں میں لپیٹ دو گےکرن تو پھوٹے گیEjaz Farooqi (b. 1935)
  33. کل جو قبرستان سے لوٹاتو تنہائی کا اک بوجھ اٹھا کر لایاEjaz Farooqi (b. 1935)
  34. کیوں مرے خواب کو دھندلاتے ہوخوابEjaz Farooqi (b. 1935)
  35. موسم سرما کی ٹھٹھراتی ہوئی شام حزیںچوٹیوں پر برف کی اک لاشEjaz Farooqi (b. 1935)
  36. وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہکوہ ملاEjaz Farooqi (b. 1935)
  37. وہ ایک آنسو گراوہ دل کے اتھاہ ساگر میں اک صدف کا بھی منہ کھلاEjaz Farooqi (b. 1935)
  38. وہ ایک پتھروہ سخت کالا سیاہ پتھرEjaz Farooqi (b. 1935)
  39. وہ ایک پل تھامرے اور اجداد کے زمانوں کا نقطۂ اتصالEjaz Farooqi (b. 1935)
  40. وہ پیڑ اب کٹ گیا ہےجس کے تلے جوانی کے گرم لمحوں کو ٹھنڈے سائے ملےEjaz Farooqi (b. 1935)
  41. وہ تیرگی بھی عجیب تھیچاندنی کی ٹھنڈی گداز چادر سے سارا جنگل لپٹ رہا تھاEjaz Farooqi (b. 1935)
  42. ہوا کے یہ نقشنیلے ساگر کی اٹھتی موجیںEjaz Farooqi (b. 1935)
  43. یہ آبا کی اقدار کا اک مرقعجسے وقت کی ایک یلغار پیہم مٹاتی رہیEjaz Farooqi (b. 1935)
  44. یہ چٹئیل سرزمیںتم کو ملیEjaz Farooqi (b. 1935)
  45. یہ سمندرموج در موج سلاسلEjaz Farooqi (b. 1935)
  46. یہ ننھی سی گڑیاجسے دو برس ہو گئے ہیںEjaz Farooqi (b. 1935)
  47. اک پرانی شراب جیسا عشقمجھ سے خانہ خراب جیسا عشقJagdish Prakash (b. 1935)
  48. بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہےاور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہےJagdish Prakash (b. 1935)
  49. بصارت کھو گئی ہے روشنی میںمزہ آنے لگا ہے تیرگی میںJagdish Prakash (b. 1935)
  50. ترا خیال مجھے اس طرح پکارتا ہےکہ مندروں میں کوئی آرتی اتارتا ہےJagdish Prakash (b. 1935)