ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھ
Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھ
کیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھ
کیا خبر ان کا پتہ پائے نہ پائے یہ بھی
میں تو چلنے کو چلوں گردش ایام کے ساتھ
اب تو وہ بھی نہیں جو دے مجھے دو لمحے سکوں
دل میں جو درد سا رہتا تھا ترے نام کے ساتھ
کون جانے کہ کہاں ہوگا وہ آلام طلب
دل کو دیکھا تو تھا ٹوٹے ہوئے اصنام کے ساتھ
حال دل جانے وہ کس رنگ میں تعبیر کریں
چند آنسو بھی گئے ہیں مرے پیغام کے ساتھ
سوچتا ہوں کہ لگاؤں گا کسے اپنے گلے
بے خودی آئی اگر تلخیٔ آلام کے ساتھ
لاکھ ٹوٹا ہو صباؔ لب سے لگا لو اپنے
روح مے خانہ کھینچی آتی ہو جس جام کے ساتھ