یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیں

Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)

یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیں

لیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیں

یہ تو سچ ہے کہ حقیقت کی طرح یاد نہیں

خواب کی طرح مگر تجھ کو بھلایا بھی نہیں

کیوں گلے ملتے ہیں رہ رہ کے حوادث مجھ سے

مجھ پہ جو گزری ہے وہ میں نے بتایا بھی نہیں

کوئی بتلاؤ کریں کس طرح اپنوں کی تلاش

ایسی منزل پہ جہاں کوئی پرایا بھی نہیں

یوں رہے گرم سفر عالم حیرت میں صباؔ

اپنا دامن کبھی کانٹوں سے بچایا بھی نہیں