کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعد
Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)کون جانے ہوگا کیا یہ ماجرا ہونے کے بعد
جسم پھیکا پڑ گیا رنگ قبا ہونے کے بعد
عقل کی ہرزہ سرائی ذہن کی آوارگی
مجھ کو سب کچھ مل گیا تجھ سے جدا ہونے کے بعد
شکر ہے فارغ ہوئے دے کر حساب زندگی
ایک آنسو بچ رہا سب کچھ ادا ہونے کے بعد
ساری خوشیاں کیسی بے تابی سے رخصت ہو گئیں
لوگ مسجد سے اٹھیں جیسے دعا ہونے کے بعد
شعلۂ جوالہ جب تک تھے تو تھے آتش مزاج
خنکیٔ اہل وفا اب ہیں صباؔ ہونے کے بعد