سایۂ بے اماں سے کیا حاصل
Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)سایۂ بے اماں سے کیا حاصل
زندگی اس جہاں سے کیا حاصل
کچھ بھی دیکھا نہ ہم نے جی بھر کے
ایسی عمر رواں سے کیا حاصل
دل ہے میرا تو غم نہیں میرا
ایسے ربط نہاں سے کیا حاصل
جب قدم اپنے اٹھ نہ پاتے ہوں
تیزیٔ ہمرہاں سے کیا حاصل
نقد جاں گر عزیز ہے تو صباؔ
ذکر کوئے بتاں سے کیا حاصل