سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھا

Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)

سراب زیست سے بچنا تو بس کے باہر تھا

مگر جو سینے پہ یادوں کا سخت پتھر تھا

ہم اپنے آپ سے کچھ دیر گفتگو کر لیں

تمہاری یاد نہ آتی تو آج بہتر تھا

نہ قافلہ نہ غبار سفر نہ سایہ کوئی

ہمارے ساتھ تو جو کچھ تھا دامن تر تھا

خیال و خواب سے کیونکر جنوں کو ہوش آیا

تمہارا ذکر تھا یا زندگی کا نشتر تھا

نہ جانے کس لئے دنیا یہی سمجھتی ہے

نہ میں تھا درد کا مارا نہ تو ستم گر تھا

خبر نہ تھی کہ تقاضائے زندگی کیا ہے

کسی کی بزم پہ ہم کو گمان محشر تھا

حیات جاتی کہاں کس سے ہوتی داد طلب

دل حیات کا ہر زخم خود ہی خنجر تھا