آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیں

Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)

آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیں

جذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیں

حاصل عشق تحیر کے سوا کچھ بھی نہیں

دل تو میرا ہے مگر زخم تمہارے کیوں ہیں

جام خالی کو صراحی سے ہم آغوش کیا

کچھ تو بتلاؤ یہ مبہم سے اشارے کیوں ہیں

گر ترا غم ہے سلامت تو ہے پہلوئے نشاط

تیرے برباد مگر غم ہی کے مارے کیوں ہیں

جب بھی آئی ہے لگایا ہے محبت سے گلے

یاد محبوب یہ آنسو تجھے پیارے کیوں ہیں

کوئی سودا ہے جنوں ہے کہ ہے الفت تیری

تیرے وحشی تجھے رہ رہ کے پکارے کیوں ہیں

اک تعلق کا نشاں ہے کہ ہے کچھ اور صباؔ

میرے ہی دل میں یہ خنجر سے اتارے کیوں ہیں