کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھا

Kabir Ahmad Jaisi (1934–2013)

کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھا

میں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھا

وہ عمر گریزاں ہو کہ ہو تیرا تصور

سائے کی طرح ساتھ مرے کوئی لگا تھا

کیا جانیے کس واسطے مصلوب ہوا ہوں

دنیا میں تو بہتوں نے ترا نام لیا تھا

آ جاتے نہ گر سامنے دریا کے کنارے

میں ہجر مسلسل کو ترے بھول چلا تھا

وہ وقت بھی گزرا ہے کہ جدت کے جنوں میں

میں اپنی نواؤں کا گلا گھونٹ رہا تھا

سب بھول چکا میں تو تری یاد کا عالم

یہ یاد ہے اک بلبلہ پانی سے اٹھا تھا

کیا وہ بھی صباؔ مجھ کو نہ پہچان سکے گا

حیرت سے جو آئینہ مجھے دیکھ رہا تھا