Poetry
Poet
Meter
- خود اپنے علم کی آنکھوں میں بے پردہ نہیں آتابہت دیکھا ہے اپنے آپ کو لیکن نہیں دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خوابطرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقابZaheen Shah Taji (1902–1978)
- دل کو شیشہ کہوں آنکھوں کو میں پیمانہ کہوںآپ مے خانہ بنوں پھر تجھے مے خانہ کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- دل ہوا تیری نظر سے فیضیابمیں ترا جلوہ نہ تو میرا حجابZaheen Shah Taji (1902–1978)
- ساقی بادہ عرفاں تم ہوشہ سنجر شہ جیلاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
- سلام آیا نہ کچھ پیغام آیاتغافل ان کا میرے کام آیاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- ظاہری آنکھ سے پنہاں تم ہودیدۂ دل سے نمایاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
- عشق مجذوب ہے دیوانہ ہےعقل سے ہوش سے بیگانہ ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- عشق میں خود حسن غارت گر لٹالوٹنے والا یہاں آکر لٹاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- عمر بھر پوجا ہے میں نے جس کو وہ در ہے یہیبت کدہ میرا یہی اللہ کا گھر ہے یہیZaheen Shah Taji (1902–1978)
- فاتحہ بھی ترے مرقد پہ پڑھوں یا نہ پڑھوںتجھ کو مردہ کہوں یا زندۂ جاوید کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کبھی انسان سے انسان محبت نہ کرےہاں محبت نہیں آسان محبت نہ کرےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئےاب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کہیں عنوان بدلا ہے کہیں طرز بیاں بدلاازل سے تا ابد افسانۂ ہستی کہاں بدلاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھاہم نے جو کچھ بھی کسی بزم میں دیکھا دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- مٹائیں صبر دل سے صبر کی تلقین فرمائیںسکون دل وہی چھینیں وہی تسکین فرمائیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- محبت رہنما اپنی محبت راہبر اپنیادھر نکلی تری منزل جدھر اٹھی نظر اپنیZaheen Shah Taji (1902–1978)
- مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہےہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- ناز فرمائے اگر میرا جنوںتم وہی کرتے رہو جو میں کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہوجو دیکھا ہے دل میں دکھائے تو کیا ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
- نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تککہوں حسن کی حد کہاں سے کہاں تکZaheen Shah Taji (1902–1978)
- نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارےہمیں پتھر نہ مارے پھول مارےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- وہ آئیں گے وہ آتے ہیں وہ آنے کو ہیں وہ آئےتصور کو وہ بہلائیں تصور ہم کو بہلائےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- وہ جلوے جو حجاب ناز سے محفل میں آتے ہیںمرے دل سے نکلتے ہیں کہ میرے دل میں آتے ہیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہماے ابتدائے کار تری انتہا ہیں ہمM. D. Taseer (1902–1950)
- حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچےآنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچےM. D. Taseer (1902–1950)
- حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیںکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- داغ سینے پہ جو ہمارے ہیںگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریںکچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریںM. D. Taseer (1902–1950)
- لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیںخاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہM. D. Taseer (1902–1950)
- رس بھرے ہونٹپھول سے ہلکےM. D. Taseer (1902–1950)
- سائےM. D. Taseer (1902–1950)
- غریبوں کی صداM. D. Taseer (1902–1950)
- راہروM. D. Taseer (1902–1950)
- دوراہاM. D. Taseer (1902–1950)
- لندن کی ایک شامM. D. Taseer (1902–1950)
- آج ان کا مزاج برہم ہےیا مقدر میں ایک نیا خم ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ابھی حسن خود سے ہے بے خبر ابھی عشق بھی ہے نہاں نہاںنہ ہیں قصے راز و نیاز کے نہ فسانے دل کے زباں زباںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اپنے حال دل پہ خود ہی مسکرا سکتا ہوں میںکب کسی کے رحم کا احساں اٹھا سکتا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیےبکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اشک غم آنکھوں سے کتنے بہہ گئےجو نہ کہنا تھا اسے ہم کہہ گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- آ گئے وہ مرے خیالوں میںگھنٹیاں بج اٹھیں شوالوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- الفت کے فسانے ماضی کے کچھ بھولے کچھ یاد آ بھی گئےغم کے بادل دل پہ مرے کچھ چھٹ بھی گئے کچھ چھا بھی گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- امید دید کام آئے نہ آئےسحر آئی ہے شام آئے نہ آئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بے تعلق زندگی بھی زندگی ہوتی ہے کیاساز دل خاموش ہو تو نغمگی ہوتی ہے کیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- پاس میں روح وفا ہو جیسےدل مرا جلتا دیا ہو جیسےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیاوہ جو آئے دل مرا دیوانہ وار آ ہی گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تجھ کو چاہوں مری مجال کہاںبس میں لیکن مرا خیال کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)