Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خود اپنے علم کی آنکھوں میں بے پردہ نہیں آتابہت دیکھا ہے اپنے آپ کو لیکن نہیں دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  2. خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خوابطرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  3. دل کو شیشہ کہوں آنکھوں کو میں پیمانہ کہوںآپ مے خانہ بنوں پھر تجھے مے خانہ کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  4. دل ہوا تیری نظر سے فیضیابمیں ترا جلوہ نہ تو میرا حجابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  5. ساقی بادہ عرفاں تم ہوشہ سنجر شہ جیلاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  6. سلام آیا نہ کچھ پیغام آیاتغافل ان کا میرے کام آیاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  7. ظاہری آنکھ سے پنہاں تم ہودیدۂ دل سے نمایاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  8. عشق مجذوب ہے دیوانہ ہےعقل سے ہوش سے بیگانہ ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  9. عشق میں خود حسن غارت گر لٹالوٹنے والا یہاں آکر لٹاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  10. عمر بھر پوجا ہے میں نے جس کو وہ در ہے یہیبت کدہ میرا یہی اللہ کا گھر ہے یہیZaheen Shah Taji (1902–1978)
  11. فاتحہ بھی ترے مرقد پہ پڑھوں یا نہ پڑھوںتجھ کو مردہ کہوں یا زندۂ جاوید کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  12. کبھی انسان سے انسان محبت نہ کرےہاں محبت نہیں آسان محبت نہ کرےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  13. کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئےاب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  14. کہیں عنوان بدلا ہے کہیں طرز بیاں بدلاازل سے تا ابد افسانۂ ہستی کہاں بدلاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  15. کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھاہم نے جو کچھ بھی کسی بزم میں دیکھا دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  16. مٹائیں صبر دل سے صبر کی تلقین فرمائیںسکون دل وہی چھینیں وہی تسکین فرمائیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  17. محبت رہنما اپنی محبت راہبر اپنیادھر نکلی تری منزل جدھر اٹھی نظر اپنیZaheen Shah Taji (1902–1978)
  18. مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہےہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  19. ناز فرمائے اگر میرا جنوںتم وہی کرتے رہو جو میں کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  20. نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہوجو دیکھا ہے دل میں دکھائے تو کیا ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  21. نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تککہوں حسن کی حد کہاں سے کہاں تکZaheen Shah Taji (1902–1978)
  22. نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارےہمیں پتھر نہ مارے پھول مارےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  23. وہ آئیں گے وہ آتے ہیں وہ آنے کو ہیں وہ آئےتصور کو وہ بہلائیں تصور ہم کو بہلائےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  24. وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  25. وہ جلوے جو حجاب ناز سے محفل میں آتے ہیںمرے دل سے نکلتے ہیں کہ میرے دل میں آتے ہیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  26. اے حق سرشت آئنہ حق نما ہیں ہماے ابتدائے کار تری انتہا ہیں ہمM. D. Taseer (1902–1950)
  27. حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچےآنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچےM. D. Taseer (1902–1950)
  28. حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیںکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
  29. داغ سینے پہ جو ہمارے ہیںگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
  30. شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریںکچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریںM. D. Taseer (1902–1950)
  31. لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیںخاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیںM. D. Taseer (1902–1950)
  32. وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہنہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہM. D. Taseer (1902–1950)
  33. رس بھرے ہونٹپھول سے ہلکےM. D. Taseer (1902–1950)
  34. سائےM. D. Taseer (1902–1950)
  35. غریبوں کی صداM. D. Taseer (1902–1950)
  36. راہروM. D. Taseer (1902–1950)
  37. دوراہاM. D. Taseer (1902–1950)
  38. لندن کی ایک شامM. D. Taseer (1902–1950)
  39. آج ان کا مزاج برہم ہےیا مقدر میں ایک نیا خم ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  40. ابھی حسن خود سے ہے بے خبر ابھی عشق بھی ہے نہاں نہاںنہ ہیں قصے راز و نیاز کے نہ فسانے دل کے زباں زباںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  41. اپنے حال دل پہ خود ہی مسکرا سکتا ہوں میںکب کسی کے رحم کا احساں اٹھا سکتا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  42. اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیےبکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  43. اشک غم آنکھوں سے کتنے بہہ گئےجو نہ کہنا تھا اسے ہم کہہ گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  44. آ گئے وہ مرے خیالوں میںگھنٹیاں بج اٹھیں شوالوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  45. الفت کے فسانے ماضی کے کچھ بھولے کچھ یاد آ بھی گئےغم کے بادل دل پہ مرے کچھ چھٹ بھی گئے کچھ چھا بھی گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  46. امید دید کام آئے نہ آئےسحر آئی ہے شام آئے نہ آئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  47. بے تعلق زندگی بھی زندگی ہوتی ہے کیاساز دل خاموش ہو تو نغمگی ہوتی ہے کیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. پاس میں روح وفا ہو جیسےدل مرا جلتا دیا ہو جیسےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیاوہ جو آئے دل مرا دیوانہ وار آ ہی گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. تجھ کو چاہوں مری مجال کہاںبس میں لیکن مرا خیال کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)