ناز فرمائے اگر میرا جنوں
Zaheen Shah Taji (1902–1978)ناز فرمائے اگر میرا جنوں
تم وہی کرتے رہو جو میں کہوں
زندگی کیا ہے سفر پیہم سفر
پھر سفر میں کیا تمنائے سکوں
عقل یزداں گیر پیغمبر شکار
عشق کی فتراک میں صید زبوں
مئے بقید شیشہ و ساغر حرام
اور جو ان مست آنکھوں سے پیوں
دوست عنقا ہیں تو دشمن ہی سہی
کوئی تو ہو جس کو اپنا کہہ سکوں
تم ہی تم ہوتے ہو میرے سامنے
سوچتا ہوں جب کبھی میں کون ہوں
چاہتا ہوں میں انہیں لیکن ذہینؔ
یہ مجھے خود بھی نہیں معلوم کیوں