خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خواب

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خواب

طرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقاب

اٹھی نگاہ تو ہر سمت سے اٹھے پردے

نظر حجاب میں ہے تو جمال زیر حجاب

نئے مقام نئی منزلیں نئی راہیں

قدم قدم پہ جنوں کے لئے نئے آداب

نگاہ عشق حقیقت ہے حسن عالم کی

متاع حسن بہت جنس عاشقی کم یاب

زبان ہے نہ بیاں ہے مگر جنوں کے لئے

تری ادائیں تکلم تری نگاہ خطاب

مرا وہ پیر مغاں فخر مے کشاں ہے وہی

جو کر سکے غم ہستی کو غرق جام شراب

وہ خام ہے جو طلبگار جام ہے ساقی

تری نظر ہے ہمیں تو مسبب الاسباب

ہم ان کو دیکھنے والے ہیں ہم کو دیکھ ذہینؔ

کبھی یہ ہم نے نہ دیکھا یہ لطف ہے کہ عتاب