عشق میں خود حسن غارت گر لٹا

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

عشق میں خود حسن غارت گر لٹا

لوٹنے والا یہاں آکر لٹا

تھا دل برباد میں آباد کون

لوٹنے والے یہ کس کا گھر لٹا

نقد دین و نقد ایماں نقد دل

پاس جو کچھ ہو لٹا ان پر لٹا

بوالہوس تھے عقل کے سرمایہ دار

عشق میں نادار ہی اکثر لٹا

تھی محبت ہی وہ راہ پر خطر

ساتھ رہ رو کے جہاں رہبر لٹا

لوٹنے والوں کا شکوہ کچھ نہیں

اپنے ہاتھوں ہی ذہینؔ اکثر لٹا