نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہو

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہو

جو دیکھا ہے دل میں دکھائے تو کیا ہو

نگاہوں سے گزرا ہوا ہے جو منظر

وہ دل سے گزرنے نہ پائے تو کیا ہو

خیال آپ ہی واقعہ بن گیا ہو

یہی واقعہ پیش آئے تو کیا ہو

وہ تصویر جو مسکراتی ہے دل میں

تصور کو آنکھیں دکھائے تو کیا ہو

وہی جو سمائے نہ ارض و سما میں

مرے دل میں آ کر نہ جائے تو کیا ہو

ازل سے ابد تک کبھی آنکھ دل کی

نہ جھپکے جھپکنے نہ پائے تو کیا ہو

وہ دریا کہ موجیں ہیں اس کی دو عالم

وہ اک بوند میں ڈوب جائے تو کیا ہو

ذہینؔ آپ کی چشم و ابرو کے قرباں

نہ سمجھے اشارے کنائے تو کیا ہو