مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہے

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہے

ہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہے

تعلیاں بھی نہیں لن ترانیاں بھی نہیں

روایتیں بھی نہیں ہیں کہانیاں بھی نہیں

مری حیات کا سرمایہ ہیں تری باتیں

وہ عرف عام میں کہلاتی ہیں کراماتیں

بیان کی ہیں بہت کم کرامتیں میں نے

چھپا رکھی ہیں ہزاروں قیامتیں میں نے

دل و نظر کی امانت دل و نظر میں ہے

کہاں وہ کوچہ و بازار و رہ گذر میں ہے

مقام خاص ہے یہ رہ گزار عام نہیں

وہاں ہے عشق جہاں کچھ کسی سے کام نہیں

خود اپنے آپ سے کہتا ہوں آپ کی باتیں

خود اپنے نفس پہ بھی پیش کیں کرامتیں

سنی ہے نفس نے سمع قبول سے یہ بات

خود اپنے نفس میں آئیں نظر تری آیات

یہی طریقۂ اثبات ہر کرامت ہے

جو یہ نہیں تو کرامت نہیں روایت ہے