نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارے
ہمیں پتھر نہ مارے پھول مارے
نہ دیکھے اپنی کشتی نے تو کیا ہے
سنا تو ہے کہ ہوتے ہیں کنارے
خلاصہ عمر بھر کی عاشقی کا
ہمارے تم نہیں ہم ہیں تمہارے
محبت دوستی ہے دشمنوں سے
ہوئے ہیں دل کے دشمن دل کے پیارے
تمہیں تم ہو نہیں کچھ بھی کہیں اور
کہاں تشبیہ کیسے استعارے
سنور جائے گا خود ہی نظم عالم
کوئی پہلے ترے گیسو سنوارے
دل پر سوز و آہ آتشیں سے
نہیں آنسو نہیں ہیں جو شرارے
محبت فاتح عالم ہے لیکن
محبت میں وہی جیتے جو ہارے
ذہینؔ آہستہ کوئے دوست میں چل
کہ آسودہ یہاں ہیں چاند تارے