وہ آئیں گے وہ آتے ہیں وہ آنے کو ہیں وہ آئے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)وہ آئیں گے وہ آتے ہیں وہ آنے کو ہیں وہ آئے
تصور کو وہ بہلائیں تصور ہم کو بہلائے
وہ چمکا چاند چھٹکی چاندنی تارے نکل آئے
وہ کیا آئے زمیں پر آسماں نے پھول برسائے
ازل سے تا ابد ہے جلوہ فرما حسن صد شیوہ
وہی صاحب نظر ہے جو برابر دیکھتا جائے
کہاں انساں کہاں عقل و خرد کی بیڑیاں توبہ
ذرا بھی عقل ہو تو آدمی دیوانہ ہو جائے
وجود نور پر موقوف ہیں آثار ظلمت بھی
نہ ہوگی روشنی تو پھر کہاں جائیں گے یہ سائے
ذہینؔ آسودگی راہ طلب میں ہے زیاں کاری
ہزاروں کوس ہیں وہ دور جو اک لمحہ سستائے