محبت رہنما اپنی محبت راہبر اپنی
Zaheen Shah Taji (1902–1978)محبت رہنما اپنی محبت راہبر اپنی
ادھر نکلی تری منزل جدھر اٹھی نظر اپنی
دل بے جذب اپنا ہے نہ آہ بے اثر اپنی
ان آئینو میں دیکھیں وہ ادائیں جلوہ گر اپنی
کہاں سے لائے گی عمر دو روزہ عہد رفتہ کو
کہاں یادش بخیر اب شام اپنی وہ سحر اپنی
مزاج حسن خود بیں کو محبت کی نظر سمجھی
سمجھتے ہیں محبت کی نظر کو وہ نظر اپنی
کہاں ہے حسن کو مستی میں ہوش التفات اے دل
وہ کیا اپنی خبر لیں گے نہیں جن کو خبر اپنی
ذہینؔ اپنے لئے دیر و حرم دونوں برابر ہیں
جدھر سے وہ گزرتے ہیں وہی ہے رہ گزر اپنی