Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تتلی اہا جی تتلیرنگین اور چتلیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  2. جاگو سونے والو جاگووقت کے کھونے والو جاگوHafeez Jalandhari (1900–1982)
  3. چاند جب عید کا نظر آیاحال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  4. دریا چڑھاؤ پر ہےاور بوجھ ناؤ پر ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  5. دیکھ بوا مری گوٹے کی چنریآ ہا جی گل ناری چنریHafeez Jalandhari (1900–1982)
  6. سیاہی بن کے چھایا شہر پر شیطان کا فتنہگناہوں سے لپٹ کر سو گیا انسان کا فتنہHafeez Jalandhari (1900–1982)
  7. شراب خانہ ہے بزم ہستیہر ایک ہے محو عیش و مستیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  8. صبح ہوا جب نور کا تڑکاسو کر اٹھا اچھا لڑکاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  9. فتنۂ خفتہ جگائے اس گھڑی کس کی مجالقید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرسان حالHafeez Jalandhari (1900–1982)
  10. فندک فندک فندک فکدھنک دھنک دھن دھنک دھنکHafeez Jalandhari (1900–1982)
  11. گرم جوشیاب سورج سر پر آ دھمکے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  12. لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کیمگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  13. لو پھر بسنت آئیپھولوں پہ رنگ لائیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  14. ماسٹر جی باہر گئے ہیںماسٹر جی گئے ذرا باہرHafeez Jalandhari (1900–1982)
  15. مری شاعری ہے نظاروں کی دنیایہ نغمہ سرا جوئباروں کی دنیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  16. ننھی ہو تم بچی ہو تمسب عقل کی کچی ہو تمHafeez Jalandhari (1900–1982)
  17. ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  18. یوں وقت گزرتا ہےفرصت کی تمنا میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  19. ایک بے تکی نظمآج بستر ہی میں ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  20. آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کرنا خدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  21. پھر دے کے خوشی ہم اسے ناشاد کریں کیوںغم ہی سے طبیعت ہے اگر شاد کسی کیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  22. تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تکقیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  23. جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیداوہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  24. حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولینہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  25. دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا ربمیرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  26. عاشق سا بد نصیب کوئی دوسرا نہ ہومعشوق خود بھی چاہے تو اس کا بھلا نہ ہوHafeez Jalandhari (1900–1982)
  27. مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہوکہ جینے کے لیے مجبور ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  28. مرے ڈوب جانے کا باعث نہ پوچھوکنارے سے ٹکرا گیا تھا سفینہHafeez Jalandhari (1900–1982)
  29. ناصح کو بلاؤ مرا ایمان سنبھالےپھر دیکھ لیا اس نے اسی ایک نظر سےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  30. وفا جس سے کی بے وفا ہو گیاجسے بت بنایا خدا ہو گیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  31. ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنادل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  32. ہاں میں تو لیے پھرتا ہوں اک سجدۂ بیتابان سے بھی تو پوچھو وہ خدا ہیں کہ نہیں ہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  33. آشیاں تھا ہم سے ہم تھے آشیانے کے لئےروئیے کیا اب قفس میں اس زمانے کے لئےHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
  34. خود اپنی پرستش کرتے ہیں کچھ دیر و حرم سے کام نہیںوہ طرز نیاز خاص ہے یہ جو کفر نہیں اسلام نہیںHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
  35. خوں اگر ہوں گے تو کام آئیں گے پیمانوں کےحوصلے کچھ تو نکل جائیں گے ارمانوں کےHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
  36. دل دیوانہ سے حال دل دیوانہ کہتے ہیںہمیں ہیں سننے والے اور ہمیں افسانہ کہتے ہیںHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
  37. اپنی دھن میں ہوں خیال ماسوا سے کیا غرضآشنا سے کیا غرض نا آشنا سے کیا غرضZaheen Shah Taji (1902–1978)
  38. اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہےنہ جانے یہ مجھے کیا ہو گیا ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  39. ان کی یاد آئے تو کچھ اس کا تقاضہ ہوگاسوچتا ہوں وہ رہے یاد تو پھر کیا ہوگاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  40. ایک حقیقت کے دو محمل حسن و محبت دونوں ہیںخلوت خلوت محفل محفل حسن و محبت دونوں ہیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  41. بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلےوہ آئے ہیں خیال آنے سے پہلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  42. ترا مجاز حقیقت سے ہم کنار بھی ہےجو آشکار نہیں ہے وہ آشکار بھی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  43. تری محفل میں تیری ہی محبت کھینچ لائی ہےمرا ذوق نظر تیرا ہی شوق خودنمائی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  44. تھی محبت کبھی فقط تم سےآج ہر چیز بن گئی محبوبZaheen Shah Taji (1902–1978)
  45. جو پہچان آئے تو پہچان جائےمجھے جان جائے تمہیں جان جائےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  46. جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتاسوائے ذق ذق‌ و بق بق سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  47. حسن تاباں اس طرف ہے عشق سوزاں اس طرفوہ پریشاں اس طرف ہے ہم پریشاں اس طرفZaheen Shah Taji (1902–1978)
  48. خاک سے لالہ و گل سنبل و ریحاں نکلےتم بھی پردے سے نکل آؤ کہ ارماں نکلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  49. خدا کو خود پہ جو غالب سمجھ نہیں سکتاوہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  50. خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نےیہ وہ غم ہے کہ اس غم پر لٹائی ہر خوشی میں نےZaheen Shah Taji (1902–1978)