اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیے

JaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)

اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیے

بکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیے

ہر ایک شے میں اس کا ہی جلوہ ہے رو بہ رو

یہ ایک دیکھیے کہ ہزاروں کو دیکھیے

نظروں میں گر سمایا ہے اس یار کا جمال

در در گلی گلی میں نگاروں کو دیکھیے

یہ کس کے رنگ و روپ کا عکس جمیل ہے

چھائی ہوئی چمن میں بہاروں کو دیکھیے

نیرنگی حیات ہے ہر سمت جلوہ گر

طوفاں کو دیکھیے کہ کناروں کو دیکھیے

پردے اٹھا کے آج شبستان عیش کے

ہاں اک نگاہ درد کے ماروں کو دیکھیے

الفت میں تیری ہار چکے ہیں جو جان و دل

اپنے کبھی تو سینہ فگاروں کو دیکھیے

کیوں عمر مختصر کو کریں وقف رنج و غم

دم بھر تو زندگی کی بہاروں کو دیکھیے

دم بھر کہیں تھمیں نہ یہ روکے کہیں رکیں

اس قلزم حیات کے دھاروں کو دیکھیے

سیر چمن نہ یار نہ مطرب نہ شغل مے

کیا دیکھ کر حبیبؔ بہاروں کو دیکھیے