دل کو شیشہ کہوں آنکھوں کو میں پیمانہ کہوں
Zaheen Shah Taji (1902–1978)دل کو شیشہ کہوں آنکھوں کو میں پیمانہ کہوں
آپ مے خانہ بنوں پھر تجھے مے خانہ کہوں
پائے ساقی سے ہے ثابت قدمی ہستی میں
سجدۂ شکر کو میں لغزش مستانہ کہوں
ایک ہی آگ ہے دو نام سے دو سمت لگی
شعلہ شمع کو سوز دل پروانہ کہوں
خلق سودا زدۂ دیر و حرم ہے لیکن
ہے کوئی ان میں جسے میں ترا دیوانہ کہوں
کچھ بھی دیکھا نہ گیا دیکھنے والوں سے ذہینؔ
کیوں نہ جلووں کو حجاب رخ جانانہ کہوں