سلام آیا نہ کچھ پیغام آیا

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

سلام آیا نہ کچھ پیغام آیا

تغافل ان کا میرے کام آیا

وہ ہیں اپنے نہ ہونے سے نمایاں

نگاہوں پر نیا الزام آیا

مثل مشہور ہے یہ میکدے میں

ہوا پختہ یہاں جو خام آیا

حکیم عصر کو مستی میں آکر

علاج گردش ایام آیا

شب غم دل کو تڑپانے ہی آئے

تم آئے یا تمہارا نام آیا

محبت وقت پر حاکم ہے پھر بھی

تصور ان کا صبح و شام آیا

در پیر مغاں پر ہے یہ کتبہ

گیا خوش کام جو ناکام آیا

جو دیکھا مہد سے لے کر لحد تک

گئیں بے چینیاں آرام آیا

ذہیںؔ پیراہن یوسف سمجھ کر

غلاف کعبہ کو میں تھام آیا