Poetry
Poet
Meter
- تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گاترا غم سہ کے بھی تجھ کو پریشاں کون دیکھے گاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تمہاری آرزو تم سے کہیں بڑھ کر حسیں نکلیکہ دنیا کی ہر اک شے سے یہی دل کے قریں نکلیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیاافسانہ ایک بھولا ہوا یاد آ گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تیرے لطف و کرم سے جو دامن میں میرے آیا ہےسینے سے وہ پھول لگایا خار وہ میں نے چوما ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئےوہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- چشم دل پر کیف ہے چھایا ہواہے تصور میں کوئی آیا ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- چمن چمن سے گلوں کا یہی پیام آیاوہی حسیں ہے جو دنیا میں شاد کام آیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حدیث دلبراں ہے اور میں ہوںجہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرحکوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرحJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- خامشی اجتناب سے پہلےاک ستم آفتاب سے پہلےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائےزندگی بے مزہ نہ ہو جائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- درد منت کش درماں ہو ضروری تو نہیںزخم مرہم کا ہی خواہاں ہو ضروری تو نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہےہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کو جو اپنے بس میں نہ پاؤں تو کیا کروںآنکھیں نہ رہ گزر میں بچھاؤں تو کیا کروںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کی کشتی تیرے حوالےتیرے سوا اب کون سنبھالےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل میں غم کی کنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دنیا سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میںقلب و جگر نواز غزل کہہ رہا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھصبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیںرسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتےخاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- فلک سے ہوئے ہیں یہ پیہم اشارےزمیں سے نہیں دور یہ چاند تارےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کبھی طویل کبھی مختصر بھی ہوتی ہےہر ایک رات کی لیکن سحر بھی ہوتی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہےوفا آزمانے کو جی چاہتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کون سی جا ہے جہاں حسن کا شہرا نہ ہواعشق بیچارہ کہاں دہر میں رسوا نہ ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کہہ چکے حال راز باقی ہےناز اٹھائے نیاز باقی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- گلشن میں ترے حسن کی جب بات چلی ہےٹھہری ہے نظر گل پہ نہ غنچے پہ رکی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگاترے غم میں طبیعت میری گھبرائی تو کیا ہوگاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- مرے دل میں گردش وقت کے کئی دور ایسے گزر گئےکہ جو ابھرے نقش تھے مٹ گئے جو مٹے نشاں تھے ابھر گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میںکیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچیخدا جانے کہاں سے اب کہاں تک بات جا پہنچیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہےمیں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہےجو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہامیں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یاد ایام رفتہ یوں آئےدھندلے دھندلے سے جیسے کچھ سائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یوں تصور میں کھلے گل ہیں تیری بات کے بعدجیسے گلشن میں نکھر جائے فضا رات کے بعدJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ابر یوں چھا رہا ہے آبو پرجیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پرJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ایک رخساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بندھ گیا ہے چاندنی سے کیا سہانہ سا سماںنربدا ہے یا ہے رنگ و روپ کا دریا رواںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئیگلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئیقدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانندکبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانندJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شاعر ہندوستاں اے شاعر جادو بیاںہند کے خم خانۂ عرفاں کے اے پیر مغاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شہر مشہور زمانہ دیکھنے آیا ہوں میںراجدھانی تیری رعنا دیکھنے آیا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کاش نور سحر کی کوئی کرنزلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوشJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جاآ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یوں آئے ہیں گھر گھر کے یہ دکھ درد کے بادلتاریک فضاؤں میں گھلا جیسے ہو کاجلJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)