Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گاترا غم سہ کے بھی تجھ کو پریشاں کون دیکھے گاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  2. تمہاری آرزو تم سے کہیں بڑھ کر حسیں نکلیکہ دنیا کی ہر اک شے سے یہی دل کے قریں نکلیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  3. تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیاافسانہ ایک بھولا ہوا یاد آ گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  4. تیرے لطف و کرم سے جو دامن میں میرے آیا ہےسینے سے وہ پھول لگایا خار وہ میں نے چوما ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  5. جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئےوہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  6. چشم دل پر کیف ہے چھایا ہواہے تصور میں کوئی آیا ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  7. چمن چمن سے گلوں کا یہی پیام آیاوہی حسیں ہے جو دنیا میں شاد کام آیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  8. حدیث دلبراں ہے اور میں ہوںجہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  9. حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرحکوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرحJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  10. خامشی اجتناب سے پہلےاک ستم آفتاب سے پہلےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  11. درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائےزندگی بے مزہ نہ ہو جائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  12. درد منت کش درماں ہو ضروری تو نہیںزخم مرہم کا ہی خواہاں ہو ضروری تو نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  13. درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہےہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. دل کو جو اپنے بس میں نہ پاؤں تو کیا کروںآنکھیں نہ رہ گزر میں بچھاؤں تو کیا کروںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. دل کی کشتی تیرے حوالےتیرے سوا اب کون سنبھالےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. دل میں غم کی کنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. دنیا سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میںقلب و جگر نواز غزل کہہ رہا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  18. سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھصبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیںرسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  20. عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتےخاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  21. فلک سے ہوئے ہیں یہ پیہم اشارےزمیں سے نہیں دور یہ چاند تارےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  22. کبھی طویل کبھی مختصر بھی ہوتی ہےہر ایک رات کی لیکن سحر بھی ہوتی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  23. کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہےوفا آزمانے کو جی چاہتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  24. کون سی جا ہے جہاں حسن کا شہرا نہ ہواعشق بیچارہ کہاں دہر میں رسوا نہ ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  25. کہہ چکے حال راز باقی ہےناز اٹھائے نیاز باقی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  26. گلشن میں ترے حسن کی جب بات چلی ہےٹھہری ہے نظر گل پہ نہ غنچے پہ رکی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  27. محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگاترے غم میں طبیعت میری گھبرائی تو کیا ہوگاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  28. مرے دل میں گردش وقت کے کئی دور ایسے گزر گئےکہ جو ابھرے نقش تھے مٹ گئے جو مٹے نشاں تھے ابھر گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  29. نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میںکیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  30. نگاہ مختصر سے داستاں تک بات جا پہنچیخدا جانے کہاں سے اب کہاں تک بات جا پہنچیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  31. نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہےمیں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  32. وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہےجو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  33. ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہامیں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  34. یاد ایام رفتہ یوں آئےدھندلے دھندلے سے جیسے کچھ سائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  35. یوں تصور میں کھلے گل ہیں تیری بات کے بعدجیسے گلشن میں نکھر جائے فضا رات کے بعدJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  36. ابر یوں چھا رہا ہے آبو پرجیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پرJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  37. ایک رخساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  38. بندھ گیا ہے چاندنی سے کیا سہانہ سا سماںنربدا ہے یا ہے رنگ و روپ کا دریا رواںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  39. جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  40. جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  41. چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئیگلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  42. دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئیقدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  43. زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانندکبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانندJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  44. شاعر ہندوستاں اے شاعر جادو بیاںہند کے خم خانۂ عرفاں کے اے پیر مغاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  45. شہر مشہور زمانہ دیکھنے آیا ہوں میںراجدھانی تیری رعنا دیکھنے آیا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  46. کاش نور سحر کی کوئی کرنزلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوشJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  47. کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جاآ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. یوں آئے ہیں گھر گھر کے یہ دکھ درد کے بادلتاریک فضاؤں میں گھلا جیسے ہو کاجلJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)