کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئے
اب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئے
آفت جاں کوئی بے پردۂ آب و گل ہے
مرنے والے نہ مرے آہ ہمیں مار گئے
وہ جنہیں ہوش ہو جانیں وہی آنا جانا
ہم تو ہشیار نہ آئے تھے نہ ہشیار گئے
آپ کی بزم میں دیکھا یہ نرالا دستور
لائے پندار وہ لے کر وہی پندار گئے
اب نہ ہم اپنے نہ دنیا کی کوئی شے اپنی
ایک ہی داؤ میں جو کچھ تھا وہ سب ہار گئے
کیا خبر ہے کسی آسودۂ ساحل کو ذہینؔ
ان میں ہم ڈوب گئے دور گئے ہار گئے