خود اپنے علم کی آنکھوں میں بے پردہ نہیں آتا
Zaheen Shah Taji (1902–1978)خود اپنے علم کی آنکھوں میں بے پردہ نہیں آتا
بہت دیکھا ہے اپنے آپ کو لیکن نہیں دیکھا
اگر ہوگا ہمارا علم اپنی ذات پر زائد
ممیز خود بخود ہو جائے گا مشہود سے شاہد
عدم کا اپنے مجھ کو علم ہے علم عدم کیا ہے
فقط معدوم کا معلوم ہونا کچھ نہ ہونا ہے
یہ محسوسات و مشہودات و معلومات کیا شے ہیں
تماشہ دیکھنے والوں کے دم سے سب تماشے ہیں
تن بے جاں ہے عالم زندگی ہم نے عطا کی ہے
حقیقت اپنی روحی اور صورت اپنی خاکی ہے
وہ جاں ہوں جسم کے ایک ایک ذرے میں رواں ہوں میں
نہیں ہوں میں کہاں فرمائیے ہوں تو کہاں ہوں میں
وہ غنچہ ہوں کہ تجزیہ کی راہیں بند ہیں مجھ پر
وہ نقطہ ہوں کہ جس کی سیر ہی کونین کا محور
وہ عالم ہوں کہ اپنی علم کی آنکھوں سے اوجھل ہوں
ازل سے ہوں ابد تک ہوں مسلسل ہوں مکمل ہوں
یہ قیدیں میرے ہونے پر مکانوں کی زمانوں کی
امانت میری ہونے میں زمینوں آسمانوں کی