دل ہوا تیری نظر سے فیضیاب
Zaheen Shah Taji (1902–1978)دل ہوا تیری نظر سے فیضیاب
میں ترا جلوہ نہ تو میرا حجاب
تم حسینان جہاں میں منتخب
اور میرا دل تمہارا انتخاب
ان کو مجھ سے مجھ کو ان سے ہے حجاب
دیکھیے پہلے اٹھے کس کا نقاب
سرزمین دل میں سر گرم سفر
تھے ہزاروں چاند لاکھوں آفتاب
موج ظاہر ہے کہ پیچ و تاب موج
موج کیا ہے در حقیقت پیچ و تاب
وہ جسے دنیا سمجھتی ہے سکوں
در حقیقت ہے کمارل اضطراب
خاک بن کر کوئے جاناں میں رہے
آدمی کو ورنہ مٹی ہے خراب
تابکے آ کر نزاع کفر و دین
تم اٹھا دو روئے رنگیں سے نقاب
خاکساری ہم کو زیبا ہے ذہینؔ
ہم کہ ہیں دلدارگان بو ترابؑ