ظاہری آنکھ سے پنہاں تم ہو

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

ظاہری آنکھ سے پنہاں تم ہو

دیدۂ دل سے نمایاں تم ہو

غنچہ و لالہ و ریحاں تم ہو

یہ گلستاں کا گلستاں تم ہو

ہر تصور سے نمایاں ہو کر

ہر تصور سے گریزاں تم ہو

دیکھ کر جس کو خدا یاد آئے

بخدا تم ہو وہ انساں تم ہو

کھو گئے ایک تجلی میں کلیم

برق صد طور بداماں تم ہو

قسمت جلوۂ حیراں میں ہوں

قسمت دیدۂ حیراں تم ہو

دل تمہارا ہے کہ تم ہو دل کے

میزباں تم ہو کہ مہماں تم ہو