تجھ کو چاہوں مری مجال کہاں
JaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)تجھ کو چاہوں مری مجال کہاں
بس میں لیکن مرا خیال کہاں
تیرا ملنا محال ہے لیکن
تو جو چاہے تو پھر محال کہاں
ایک لمحہ کرم کا دے دیتے
میں نے مانگے تھے ماہ و سال کہاں
پھر نشیمن قفس میں یاد آیا
میں کہاں اور مرا خیال کہاں
میکدہ جو رہ حیات میں ہو
گمرہی کا پھر احتمال کہاں
دل نے مشکل سے چین پایا تھا
پھر سے آیا ترا خیال کہاں
وہ ملے بھی تو اجنبی کی طرح
پرسش حال کا سوال کہاں
جلوۂ حسن میں ہوا ہوں گم
اب یہاں جائے قیل و قال کہاں
چپ ہی بہتر ہے اس زمانے میں
سننے والا ہے دل کا حال کہاں
کیا نہ دیکھا حبیبؔ دنیا میں
یاں سے جانے میں پھر ملال کہاں