کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھا
Zaheen Shah Taji (1902–1978)کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھا
ہم نے جو کچھ بھی کسی بزم میں دیکھا دیکھا
دیکھنے کو سر محفل رخ زیبا دیکھا
ہم کو جو کچھ تری آنکھوں نے دکھایا دیکھا
وہ بہاریں کہ ترے ساتھ مجھے دیکھ گئیں
کیا کہیں گی اگر آ کر مجھے تنہا دیکھا
حسن خود بیں کو ہے کیا عشق خدا بیں سے گریز
میری آنکھوں سے بھی اپنا رخ زیبا دیکھا
سب سے مل کر بھی کم آمیز ہے تمکین جمال
تجھ کو دیکھا تو بھری بزم میں تنہا دیکھا
نکتہ چیں دیدۂ ظاہر ہے مری آنکھوں پر
ہم نے آئینہ نہ دیکھا رخ زیبا دیکھا
چاندنی چاند سی صورت کی گھنی زلف کی چھاؤں
پھر اندھیرا نظر آیا نہ اجالا دیکھا
اس کو اپنا کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا ذہینؔ
جس کو بیگانگیٔ ہوش میں اپنا دیکھا