نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تک
Zaheen Shah Taji (1902–1978)نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تک
کہوں حسن کی حد کہاں سے کہاں تک
بہت دور ہیں اصلیت سے فسانے
بڑا فاصلہ ہے دلوں سے زباں تک
گزر جا محبت میں بیم و رجا سے
محبت میں خامی ہے سود و زیاں تک
اسی سے امید نوازش ہے دل کو
ہنسی میں اڑا لے گیا جو فغاں تک
دعا لب پہ آتی ہے دل سے نکل کر
زمیں سے پہنچتی ہے بات آسماں تک
ذہینؔ آج آفاق بن کر عیاں ہے
جو اک حرف آیا تھا میری زباں تک