عشق مجذوب ہے دیوانہ ہے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)عشق مجذوب ہے دیوانہ ہے
عقل سے ہوش سے بیگانہ ہے
نہ کہیں گھر نہ کہیں در اس کا
شہر ہے باغ ہے ویرانہ ہے
کہیں ساغر ہے نہ مینا نہ سبو
مست ہے صاحب میخانہ ہے
طالب جلوۂ جاناں بھی نہیں
آپ ہی جلوۂ جانانہ ہے
ہفتم اقلیم میں سلطان ہے وہ
اور انداز فقیرانہ ہے