Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- صفحۂ قرطاس پر خوش رنگ تحریریں نہیںاپنے قبضے میں ابھی لفظوں کی جاگیریں نہیںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- وقت خود سر ہے سدا اپنی ہی من مانی کرےبہتا دریا آگ کر دے آگ کو پانی کرےKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریںاک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیںدشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیےبن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاG R Kanwal (b. 1935)
- رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہوبیویاں تنہا ہی گھومیں اور میاں کوئی نہ ہوT N Raaz (b. 1935)
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہےحسن کی لائٹ سے میری آنکھ چندھیا جائے ہےT N Raaz (b. 1935)
- آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیےمیں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیےShahryar (1936–2012)
- تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کوکب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کوShahryar (1936–2012)
- ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھاسخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھاShahryar (1936–2012)
- دور افق کے پار سے آواز کے پروردگارصدیوں سوئی خامشی کو سامنے آ کر پکارAdil Mansuri (1936–2008)
- کون تھا وہ خواب کے ملبوس میں لپٹا ہوارات کے گنبد سے ٹکرا کر پلٹ آئی صداAdil Mansuri (1936–2008)
- کوئی تو سوغات اس کے شہر کی گھر لے چلوکچھ نہیں تو جسم پر زخموں کی چادر لے چلوTahir Tilhari (b. 1936)
- میرا مقصود نظر لوح مقدر میں نہیںمیں وہ موتی ڈھونڈھتا ہوں جو سمندر میں نہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہارات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہاNaaz Muradabadi (b. 1936)
- آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریںڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کاآؤ دکھلاؤں تمہیں یہ کھیل بھی تقدیر کاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمامآسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمامAabid Adeeb (b. 1937)
- کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیںبہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پرایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پرIftikhar Qaisar (b. 1937)
- خواہشوں کا ورد یوں مت کر پرائے شہر میںفاختہ مر جائے گی گھٹ کر قبائے شہر میںIftikhar Qaisar (b. 1937)
- ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئےجس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئےIftikhar Qaisar (b. 1937)
- ماجرا الفت کا تیری اور ہم لکھیں گے کیاپیار تجھ سے ہو گیا ہے اس کو پھر بھولیں گے کیاYaseen Barari (b. 1937)
- آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہیجب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی سہیNida Fazli (1938–2016)
- کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہو گیاپھر ہوا یوں وہ کسی کی میں کسی کا ہو گیاNida Fazli (1938–2016)
- میری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلافہر طرف ہے فوج آرائی محبت کے خلافNida Fazli (1938–2016)
- ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہےNida Fazli (1938–2016)
- اس طرح کے لطف سے کوئی کہاں تک شاد ہولطف کے پردے میں جب بیداد ہی بیداد ہوPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- پھر پریشاں حال ہے قلب و جگر کیا کیجئےاب علاج گردش شام و سحر کیا کیجئےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ناخدا کی مشکلیں آسان کر جاتا ہوں میںاپنی کشتی آپ جب طوفاں سے ٹکراتا ہوں میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہمشام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہمBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیںچلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میںجب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گاآنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گاOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوںمیری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوںZafar Kaleem (b. 1938)
- طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزلجب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزلZafar Kaleem (b. 1938)
- کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلااپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلاZafar Kaleem (b. 1938)
- ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنااپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھناZafar Kaleem (b. 1938)
- ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑاایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑاZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرحمیں نہ تھا سچ ہے مگر وہ کون تھا میری طرحZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنافصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشناZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- رنج سے واقف خوشی سے آشنا ہونے نہ دےزندگی کو اپنے مقصد سے جدا ہونے نہ دےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگاپانیوں میں سرخ پودے دھوپ میں سایا اگاGhayas Mateen (b. 1939)
- دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیںوقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- کب ہوا مٹھی میں آتی ہے عبث دوڑا کیاجانے کیا کیا کل یوں ہی میں رات بھر سوچا کیاJafar Raza (1939–2022)
- وقت کی دہلیز پر بیٹھے ہیں جانے کے لئےمنتظر ہیں موت کے آرام پانے کے لئےK K Nanda Ashk (b. 1939)
- اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گااس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیںزلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیںWaseem Barelvi (b. 1940)