کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں

Zafar Gorakhpuri (1935–2017)

کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں

دشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیں

کیسی شب ہے ایک اک کروٹ پہ کٹ جاتا ہے جسم

میرے بستر میں یہ تلواریں کہاں سے آ گئیں

خواب شاید پھر ہوا آنکھوں میں کوئی سنگسار

زیر مژگاں خون کی دھاریں کہاں سے آ گئیں

شاید اب تک مجھ میں کوئی گھونسلہ آباد ہے

گھر میں یہ چڑیوں کی چہکاریں کہاں سے آ گئیں

ساتھ ہے ملنا اگر چاہوں تو ملتا بھی نہیں

ایک گھر میں اتنی دیواریں کہاں سے آ گئیں

رکھ دیا کس نے مرے شانے پہ اپنا گرم ہاتھ

مجھ شکستہ پا میں رفتاریں کہاں سے آ گئیں