فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرح

Zaheer Ghazipuri (b. 1938)

فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرح

میں نہ تھا سچ ہے مگر وہ کون تھا میری طرح

کب گماں گزرا کہ تنہائی میں سناٹا کوئی

داستاں اپنی سنا کر چپ ہوا میری طرح

کچھ نہ کچھ پہچان اپنی چھوڑ جاتا وہ ضرور

بن کے بحر بیکراں جو پھیلتا میری طرح

کوئی سایہ بھی نہیں تھا زندگی کے دشت میں

جھیلتا جو بے یقینی کی سزا میری طرح

آئنے کہتے نہیں لیکن مجھے معلوم ہے

ریت مجھ جیسی ہے پربت کی ہوا میری طرح

کوئی اپنی ذات کا عرفان پانے کے لئے

ہو نہ جائے اپنے اندر کھوکھلا میری طرح

سبز رت کی داستاں جلتے ہوئے اوراق پر

کوئی میرے بعد بھی کیا لکھ سکا میری طرح

اے غریب شہر اے بیگانۂ حرف نوا

پانیوں پر نقش اپنا چھوڑ جا میری طرح