Poetry
Poet
Meter
- یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھامگر دیکھنا جس کو چاہا نہ دیکھاشہیر مچھلی شہری
- ہم نے تو خاک بھی دیکھا نہ اثر رونے میںعمر کیوں کھوتے ہو اے دیدۂ تر رونے میںعشق عظیم آبادی
- غربت و وطنسجاد حیدر یلدرم
- اس دل میں کر گزر جو یہ تیر آہ الٹےاک پل میں سب فلک کی یہ بارگاہ الٹےثناء اللہ فراق
- آنکھ سے کس نے روشنی مانگیخواب کے نام زندگی مانگیTabinda Masood
- ہم نے مانا کہ نہیں ہوتی مکمل تسکیںخط کو بھی آدھی ملاقات کہا جاتا ہےTabish Lakhnavi
- مٹ گئے ہائے مکیں اور مکان دہلینہ رہا نام کو بھی نام و نشان دہلیTafazzul Husain Khan Kaukab Dehlavi
- اپنی تنہائی کو آباد تو کر سکتے ہیںہم تجھے مل نہ سکیں یاد تو کر سکتے ہیںTahir Abbas
- آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھےمیں نگوڑی تو یہ سمجھی مل گئی منزل مجھےTahira Sultana Makhfi
- ہوئے ذلیل تو عزت کی جستجو کیا ہےکیا جو عشق تو پھر پاس آبرو کیا ہےtahseen dehlvi
- دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیاہم تو روتے تھے مگر آپ نے رونے نہ دیاUma Shankar Chitravanshi Bazal
- نہ خوشی مجھے ہی ہے وصل کی نہ ہی ہجر کا بھی ملال ہےمیں. ہوں کون ذات ہے کیا میری یہی مختصر سا سوال ہےVikram Mishra Angadh
- محبت کا کوئی تو پیمان ہوتاکہ جن پہ ہمیں بھی بہت مان ہوتاYaseen Bhatti
- دختر رز سے رات صحبت تھیشیخ جی کا مگر وضو نہ گیاYasmeen
- چشم تر پہ نقش ہے ان منظروں کا سلسلہبڑھتے بڑھتے بڑھ گیا ہے فاصلوں کا سلسلہYasmin Barkat
- برسات کی جھڑیوں کو تم خود ہی منا لیناجب کچھ نہ سمجھ آئے پھر ہم کو بلا لیناYasmin Sahba
- اے خدا ضبط کے زنداں میں کوئی در کر دےیا اسے موم بنا یا مجھے پتھر کر دےZafar Ibn-e-Mateen
- اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑےآنکھوں سے وقت گریہ مگر خوں ٹپک پڑےظہور اللہ بدایونی نوا
- کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کورہنے دو پڑے ہیں ایک طرف دکھ دیتے ہو کیوں بے چاروں کوضیا عظیم آبادی
- ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سےزخم دل ابھر آئے پھر بہار آنے سےUnknown
- بہار کی دھوپ میں نظارے ہیں اس کنارےسفید پانی کے سبز دھارے ہیں اس کنارےUnknown
- پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہےسلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی مجھے مے کشی کی ضرورت نہیں ہےUnknown
- تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیاوہیں محو حیرت بے خودی مجھے آئنہ سا بنا دیاUnknown
- جب خلاف مصلحت جینے کی نوبت آئی تھیڈوب مرتے ڈوب مرنے میں اگر دانائی تھیUnknown
- حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجےگلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجےUnknown
- دل کی بربادی میں شامل تھی رضا آنکھوں کیاس کی پاداش میں کام آئی ضیا آنکھوں کیUnknown
- زمانے میں کہیں دل کو لگانا بھی ضروری تھاغلط کچھ بھی نہیں لیکن چھپانا بھی ضروری تھاUnknown
- سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگااب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگاUnknown
- سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانیبہاؤ اس کا ہے جاودانی رواں ہے پانیUnknown
- فصل گل ہے سجا ہے مے خانہچل مرے دل کھلا ہے مے خانہUnknown
- کہنا غلط غلط تو چھپانا صحیح صحیحقاصد کہا جو اس نے بتانا صحیح صحیحUnknown
- کیسی ترتیب سے کاغذ پہ گرے ہیں آنسوایک بھولی ہوئی تصویر ابھر آئی ہےUnknown
- گلاب آنکھیں شراب آنکھیںیہی تو ہیں لا جواب آنکھیںUnknown
- لا پلا دے ساقیا پیمانہ پیمانے کے بعدبات مطلب کی کروں گا ہوش آ جانے کے بعدUnknown
- متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیںفرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیںUnknown
- محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانےنکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکار کیا جانےUnknown
- مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائےہر بلا سر پہ آ جائے میری حسن والوں سے اللہ بچائےUnknown
- میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیںاس عنایت پہ قربان جاؤں پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیںUnknown
- مئے فراغت کا آخری دور چل رہا تھاسبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھاUnknown
- نیکیوں کے زمرے میں بھی یہ کام کر جاؤمسکرا کے تھوڑا سا میرے زخم بھر جاؤUnknown
- بلبل کا بچہکھاتا تھا کھچڑیUnknown
- بنایا ہے ہم نے یہ لکڑی کا گھوڑاسڑا سڑ سڑا سڑ لگاتے ہیں کوڑاUnknown
- سنو سہیلی کہوں پہیلیہے جو کوئی بوجھےUnknown
- پھول چاہتے تھے، مگر ہاتھ آئے پتھرUnknown
- وفا کے پیمان سب بھلا کرجفائیں کرتے وفا کے قاتلUnknown
- تمہیں لائی ہے میرے روبروساعت چمکنے کیUnknown
- یہاں سورج چمکتا ہےندی کے صاف پانی میںUnknown
- زمین گونگی ہو رہی ہےپرندے چپ سادھےUnknown
- ستارےاب نمو کی آگ مدھم ہوتی جاتی ہےUnknown
- ستارےتو نے دیکھی ہے فضا سارے زمانوں کیUnknown