سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا
Unknownسحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا
اب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا
تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا
تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا
مقابلہ ہے ترے حسن کا بہاروں سے
نہ جانے آج بہاروں کا حال کیا ہوگا
نقاب ان کا الٹنا تو چاہتا ہوں مگر
بگڑ گئے تو نظاروں کا حال کیا ہوگا
مذاق دید ہی صہباؔ اگر بدل جائے
تو زندگی کی بہاروں کا حال کیا ہوگا