چشم تر پہ نقش ہے ان منظروں کا سلسلہ

Yasmin Barkat

چشم تر پہ نقش ہے ان منظروں کا سلسلہ

بڑھتے بڑھتے بڑھ گیا ہے فاصلوں کا سلسلہ

ہم سلامت کس طرح رہتے بھلا سچ بول کر

چار سو بکھرا پڑا تھا پتھروں کا سلسلہ

دل کی وحشت مانگتی ہے لا مکاں کی وسعتیں

اک نظر بھاتا نہیں مجھ کو گھروں کا سلسلہ

نیند کا احساس روشن قمقموں میں کھو گیا

آ بسا آنکھوں میں میرے رتجگوں کا سلسلہ

وہ انا کے خول میں تھا میں انا سے دور تھی

میرے اس کے درمیاں تھا الجھنوں کا سلسلہ

کیوں نظر آتی نہیں لوگوں کو اپنی صورتیں

دور تک پھیلا ہے جبکہ آئنوں کا سلسلہ

یاسمیںؔ جن سے میسر ہو تراوت آنکھ کو

دیکھنا ہے اب مجھے ایسی رتوں کا سلسلہ