زمین گونگی ہو رہی ہے

Unknown

زمین گونگی ہو رہی ہے

پرندے چپ سادھے

اجڑی شاخوں پہ بیٹھے نوحہ کناں ہیں

رات کے بدن پہ

نیند کے پیالے اوندھے پڑے بلک رہے ہیں

عورتوں کے رحم میں

زندہ لاشوں کے گلنے سڑنے سے تعفن پھیل رہا ہے

خواب بستیاں اجڑ رہی ہیں

سمندروں نے دیکھا

موت دانت نکوستی دندناتی پھرتی ہے

بڑھیا کھڑکی سے جھانکتے چیخی

کوئی مذہب

اسے لگام کیوں نہیں ڈالتا

کیسی شتر بے مہار ہوئی پھرتی ہے

کوئی دعا اس کا گلا کیوں نہیں گھونٹتی

اس منحوس کو تعویذ گھول کر پلاؤ

درباروں میں جھاڑو دیتی

بےوقوف بڑھیا

فلم کا وہی کردار ہٹ ہوتا ہے

جس نے

ریہرسل کی ہو

کھڑکی میں سناٹا پھیل گیا

موت نے اپنا گیت جاری رکھا