برسات کی جھڑیوں کو تم خود ہی منا لینا
Yasmin Sahbaبرسات کی جھڑیوں کو تم خود ہی منا لینا
جب کچھ نہ سمجھ آئے پھر ہم کو بلا لینا
اک موج مچل کر جب ساحل سے لپٹتی ہو
تم تشنہ نگاہوں کو دریا پہ جما لینا
اے چارہ گرو تم بھی اس غم میں رہو شامل
دکھتے ہوئے زخموں کا تم بھی تو مزا لینا
سوچوں میں خیالوں میں مہکار سی بھر دینا
آنکھوں نے جو دیکھے ہیں وہ خواب چرا لینا
لکھے ہیں ہواؤں پر جو گیت جدائی میں
ان کو کبھی چاہت سے ہونٹوں پہ سجا لینا
جو من میں دہکتی ہے دن رات سلگتی ہے
اس آگ کو جذبوں کی رم جھم سے بجھا لینا
کیوں ڈھونڈتے پھرتے ہو صہباؔ کی وفاؤں کو
مہکے ہوئے جھونکوں کو سینے سے لگا لینا