مئے فراغت کا آخری دور چل رہا تھا
Unknownمئے فراغت کا آخری دور چل رہا تھا
سبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھا
وہ ساز کی لے کہ ناچتا تھا لہو رگوں میں
وہ حدت مے کہ لمحہ لمحہ پگھل رہا تھا
فضا میں لہرا رہے تھے افسردگی کے سائے
عجب گھڑی تھی کہ وقت بھی ہاتھ مل رہا تھا
سکوں سے محروم تھیں طرب گاہ کی نشستیں
کہ اک نیا اضطراب جسموں میں چل رہا تھا
نگاہیں دعوت کی میز سے دور کھو گئی تھیں
تمام ذہنوں میں ایک سایہ سا چل رہا تھا
ہوائے غربت کی لہر انفاس میں رواں تھی
نئے سفر کا چراغ سینوں میں جل رہا تھا
بھڑک رہی تھی دلوں میں حسرت کی پیاس لیکن
وہیں نئی آرزو کا چشمہ ابل رہا تھا
بدن پہ طاری تھا خوف گہرے سمندروں کا
رگوں میں شوق شناوری بھی مچل رہا تھا
نہ جانے کیسا تھا انقلاب سحر کا عالم
بدل رہی تھی نظر کہ منظر بدل رہا تھا