بہار کی دھوپ میں نظارے ہیں اس کنارے
Unknownبہار کی دھوپ میں نظارے ہیں اس کنارے
سفید پانی کے سبز دھارے ہیں اس کنارے
وہاں کی صبحوں کا رنگ ہے فاختاؤں جیسا
ہمیشگی کے نشان سارے ہیں اس کنارے
فضا فرشتوں کے نور سے جگمگا رہی ہے
دھلے ہوئے آسمان سارے ہیں اس کنارے
وہاں کی راتوں میں خواب ہیں کیمیا گروں کے
رواں مری روح کے ستارے ہیں اس کنارے
فضاؤں میں کشف کے دیئے جھلملا رہے ہیں
ہواؤں میں غیب کے اشارے ہیں اس کنارے
وہاں ہے فیضان آسماں کی ضیافتوں کا
فلک نے نعمت کے خواں اتارے ہیں اس کنارے
وہاں ہیں انگور کے چمن دیویوں کے درشن
بہشت کے اہتمام سارے ہیں اس کنارے
کسان دل شاد کھیت آباد ہیں وہاں کے
سفید بھیڑیں ہیں سبز چارے ہیں اس کنارے
یہاں یہ خاموش ماتمی سوگوار ساحل
وہاں گڈریوں کے گیت پیارے ہیں اس کنارے